افغانستان اپنے ملک میں دہشتگرد تنظیموں کیخلاف کارروائی کرے، پاکستان،یورپی یونین
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
بیلجیم (ویب ڈیسک) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے یورپی یونین کی ہائی ری پریزنٹیٹو اور نائب صدر کایا کالاس سے 22 نومبر کو برسلز،میں ملاقات کی۔پاکستان اور یورپی یونین (ای یو) نے ایک مشترکہ بیان میں افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
یہ پیشرفت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے موقع پر سامنے آئی، جو برسلز میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کایا کالاس نے کی۔
وزارتِ خارجہ (ایف او) کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق، اسحٰق ڈار اور کایا کالاس نے گزشتہ ماہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات پر گفتگو کی۔ دونوں اعلیٰ سفارتکاروں نے علاقائی امن، استحکام، خوشحالی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کے عزم کا اعادہ کیا۔
بیان میں کہا گیا: “دونوں فریقین نے افغانستان کے ڈی فیکٹو حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے مشترکہ ہدف کے حصول میں تعمیری کردار ادا کریں۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحٰق ڈار اور کایا کالاس نے کابل کی بگڑتی ہوئی سماجی و معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور ایک “پُرامن، مستحکم اور خود مختار افغانستان” کے حامی نظر آئے۔
انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ افغانستان “اقوام متحدہ کی سربراہی میں جاری دوحہ عمل سے ہم آہنگ ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل” کی حمایت کرے گا، جو طالبان کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز کی جانب سے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ہو۔
بیان کے مطابق، یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی کرنے کی تعریف کی، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ان کی واپسی “محفوظ، باوقار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق” ہونی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا: “دونوں فریقین نے افغان حکام سے انسانی حقوق خصوصاً خواتین، بچوں اور حساس طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔”
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یورپی یونین اسح ق ڈار کے مطابق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔