توہین رسالت کے مقدمے میں عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
راولپنڈی:
توہین رسالت کے مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی ڈویژن بینچ نے توہین رسالت کے مقدمے میں 4 ملزمان کی اپیل پر سماعت کی، جس میں عدالت نے 4 ملزمان کی پھانسی کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں۔
عدالت نے چاروں ملزمان کی بریت ساتھ رہائی کا حکم جاری کردیا۔
واضح رہے کہ چاروں ملزمان فیضان رزاق،عثمان لیاقت،وزیر گل اور امین رئیس اڈیالہ جیل قید ہیں ۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے 2023ء میں چاروں ملزمان کو توہین رسالت کیس میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے چاروں ملزمان کو سزائے موت کے ساتھ ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
ملزمان کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے مقدمہ درج کیا تھا، جس میں ملزمان پر مقدس شخصیات کے خلاف پوسٹیں اپ لوڈ کرنے کا الزام تھا ۔
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی ڈویژن بینچ نے ٹیکنیکل گراؤنڈز پر ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ موبائل فون کا فرانزک نہیں ہوا کہ یہ کس کی ملکیتی ہیں ۔ مقدمے کی شفاف تفتیش کے لیے تمام ٹیکنیکل پہلوؤں پر تفتیش ضروری ہے ۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان کسی اور کیس میں گرفتار نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل چاروں ملزمان توہین رسالت عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔