اسرائیل کی جاری جارحیت عالمی امن کیلئے خطرہ ہے،طارق مدنی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) پاکستان امن کونسل کے سربراہ طارق محمود مدنی نے اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی کے باوجود غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں مزید 8فلسطینیوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کا فوری سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے وہ سماجی رہنما اسلم خان فاروقی سے جنگ بندی کے باوجود غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر گفتگو کررہے تھے طارق مدنی کا کہنا تھا کہ غزہ صیہونی فوج کے مسلسل حملوں کی زد میں ہے، اسرائیلی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور مظلوم فلسطینیوں پر ہونے والے حملے کم نہیں ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اپنی کارروائیاں معطل کی ہوئی ہیں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ صیہونی اسرائیل کی جاری جارحیت عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔