پاکستان کی غزہ میں اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان نے غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں خواتین اور بچے شہید ہونے کی رپورٹس ہیں، اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
غزہ میں تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 24 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے شرم الشیخ امن معاہدے کی خلاف ورزی کی بھی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے عالمی انسانی حقوق و قوانین کے احترام پر زور دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے، 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطین ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہونی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔