جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی افواج نے 8 مزید فلسطینی شہید کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
قابض اسرائیلی افواج نے جنگ بندی معاہدے کے باوجود جمعہ کے روز کم از کم 8 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں دو کم عمر نوجوان بھی شامل تھے، جنہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں گولی مار کر قتل کیا گیا، اسرائیلی فوج نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے ایک پناہ گزین کیمپ پر منگل کے روز کیے گئے حملے میں 13 فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔
نجی اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ 2 نو عمر نوجوانوں کو رات کے وقت قصبہ کفر عقب میں شہید کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 سالہ عمر خالد احمد المربو، اور 16 سالہ سامی ابراہیم سامی مشایخ مقبوضہ افواج کی فائرنگ سے کفر عقب، رام اللہ کے قریب، شہید ہوئے۔
فلسطینی ریڈ کریسنٹ نے اطلاع دی کہ اس کے طبی کارکنوں نے رات کے دوران کفر عقب سے 2 زخمیوں کو منتقل کیا، جن میں سے ایک کو انتہائی سنگین گولی کا زخم اور دوسرے کو سینے میں گولی لگنے کا زخم تھا۔
عمر المربو کے دوست عدی الشرفا، جو اس کی شہادت کے چشم دید گواہ ہیں، انہوں نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہ دونوں سڑک پر موجود تھے، جب اسرائیلی فوج نے چھاپے کے دوران فائرنگ شروع کر دی، ان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے فائرنگ کی۔
الشرفا نے کہا کہ المربو سینے میں، دل کے مقام پر گولی لگنے سے گرے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے، وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ان کا دوست کسی جھڑپ میں شریک نہیں تھا اور نہ ہی پتھراؤ کر رہا تھا۔
قصبہ کفر عقب بظاہر غیر قانونی طور پر ضم کیے گئے مشرقی یروشلم کا حصہ ہے، مگر اسرائیل کی علیحدگی دیوار نے اس علاقے کو کاٹ دیا ہے، جس کے باعث یہاں کے رہائشیوں کو نہ یروشلم کی بلدیہ اور نہ فلسطینی اتھارٹی سے بنیادی خدمات میسر ہیں۔
محصور جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فورسز نے جمعہ کے روز 5 فلسطینیوں کو قتل کیا، یہ اموات جنوبی غزہ کے اس علاقے میں ہوئیں جو اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے اور جسے نام نہاد یلو لائن کے مشرق میں بتایا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ہلاکتوں کو جواز دینے کے لیے ’فوری خطرے‘ کا دعویٰ کیا، یہی بہانہ اسرائیلی فوج کئی بار اپنی جارحیت کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے، حالاں کہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے غزہ میں اپنی کارروائیاں معطل رکھنے کی تصدیق کی ہے۔
علاوہ ازیں غزہ کے ایک ہسپتال کے عہدیدار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ایک اور فلسطینی خان یونس کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے جمعہ کو تصدیق کی کہ جنوبی لبنان کے عین الحلوہ پناہ گزین کیمپ پر ہفتے کے آغاز میں کیے گئے اس کے حملے میں 13 فلسطینی شہید ہوئے تھے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے جنگجو تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نے کفر عقب
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔