پشاور؛ ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک :ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر خودکش حملے میں شہید ہونے والے اہل کاروں کی نماز جنازہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹر میں ادا کردی گئی۔
نماز جنازہ میں وزیراعلیٰ کے پی کے، کورکمانڈر پشاور اور عسکری و سول حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور شہدا کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار بھی کیا ۔
پاکستان نےسنوکر ورلڈکپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا
نمازِ جنازہ کے بعد شہدا کے جسدِ خاکی ان کے آبائی علاقے روانہ کردیے گئے، جہاں شہدا کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی ۔
نماز جنازہ کے شرکا کا کہنا تھا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جو ملک کی سلامتی اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔
اس موقع پر ملکی سلامتی، امن اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں ۔
پرو ہاکی لیگ کی تیاری، قومی ہاکی ٹیم کا کیمپ کل سے شروع
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔