پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشت گردی اور لبنان پر اسرائیلی جارحیت قابلِ مذمت ہے، علامہ نثار قلندری
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں سینئر نائب صدر جعفریہ الائنس نے لبنان میں صہیونی دہشتگردی اور اسکے نتیجے میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے اہم کمانڈر ہیثم علی الطباطبائی کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست عالم اسلام میں کینسر کی مانند ہے، جب تک اس مرض کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا یہ اسلامی ریاستوں میں بدامنی پھیلاتا رہے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ نثار احمد قلندری نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ علامہ نثار احمد قلندری نے اپنے بیان میں شہداء کے اہلِ خانہ سے گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہادر ایف سی جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بڑے سانحے کو ٹالا، جو خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں، وانا، اسلام آباد اور پشاور کے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن قوتیں پاکستان کو دوبارہ دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ علامہ نثار قلندری نے مزید کہا کہ قوم ریاستی اداروں سے موثر حکمتِ عملی، شفاف انٹیلی جنس شیئرنگ اور عملی اقدامات کی توقع رکھتی ہے، دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی مددگاروں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔
دوسری جانب لبنان میں صہیونی دہشتگردی اور اسکے نتیجے میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے اہم کمانڈر ہیثم علی الطباطبائی کی شہادت کی مذمت کرتے ہوئے علامہ نثار قلندری نے کہا کہ صہیونی ریاست عالم اسلام میں کینسر کی مانند ہے، جب تک اس مرض کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاتا یہ اسلامی ریاستوں میں بدامنی پھیلاتا رہے گا، عالم اسلام صہیونی دھوکہ کو سمجھیں اور متحد ہوکر اس جرثومے کا مقابلہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ نثار کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔