وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی دہشت گرد حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے زخمیوں کی جلد ازجلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے۔ پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق صدر روڈ کو ٹریفک کیلیے بند کردیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کی جلد از جلد شناخت کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے دہشتگرد حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے 3 ایف سی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید جوانوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔
محسن نقوی نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہید جوان ہمارے ہیرو ہیں، ان کی عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔
وزیرِاعلیٰ نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جوانوں نے بہادری سے بڑی تباہی کو ٹالا، یہ حملہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
واضح رہے کہ آج صبح پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹرز پر فتنہ الخوارج کے حملہ کو ناکام بنادیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ دہشتگردوں کے حملے میں ایف سی کے 3 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔