محکمہ کھیل کے عارضی ملازمین کو جلد مستقل کیاجائے، شاہد سومرو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدراباد (اسٹاف رپورٹر)ایپکا سندہ امن گروپ کے صوبائی جنرل۔سیکرٹری شاہد سومرو نے محکمہ کھیل کے عارضی ملازمین سے ملاقات کرتے ہوئے بات چیت میں کہا کہ محکمہ کھیل کے عارضی ملازمین کے ہائی کورٹ حیدرآباد کیجانب سے سی۔پی۔ڈی پٹیشن 1757 سال 2012 میں دئیے گئے عارضی ملازمین کو ریگولر کرنے کے حوالے سے سال 22,11,2017 کے آرڈر تحت عمل نہ کرنے پر توہین عدالت چلنے والے کیس کی ملازمین کے وکلا عبدالسمیع رند نے 11/11/2025 آخری سماعت پر پیروی کی تھی جس کے بعد ہائی کورٹ حیدرآباد کے سنئیرجج عبدالکریم میمن نے عادضی کھیل کے ملازمین کو مستقیل کرنے کے حوالے سے معکمہ کھیل کے صوبائی سیکرٹری کو تین ماہ کا وقت دیتے ہوئے ملازمین کی ایس۔این۔ای منظور کرتے ہوئے سیکرٹری ایس۔جی۔اے اور سی۔ڈی سے رول ریکولیشن منظور کرتے ہوئے ان کو مستقیل کرنے کے حوالے سے آرڈر جاری کردیا ہے۔ ایپکا رہنما شاہد سومرو نے کہا کہ ھائی کورٹ حیدرآباد کے ملازم دوست فیصلی کا خیر مقدم کرتے ہیں سال 1998 سییہ عارضی معکمہ کھیل کے ملازم اپنے فرائض بھترین انداز سے سرانجام دے رہیے ہیں لیکن معکمے کے کھیل کے سیکرٹری نیاز عباسی سے لیکر جوبھی ابتک آ? ہیں ان عارضہ ملازمین کے مستقل کرنے کے حق سے محروم ہی رکھا ہے تاہم ہائی کورٹ حیدر آباد کے تاریخی فیصلی پر عمل کرتے ہوئے سندھ حکومت اب ان معکمہ کھیل کیعارضی ملازمین کیساتھ انصاف کرے اور سیکرٹری کھیل سندہ مستقیلی کے فوری آرڈز کریں تاکہ ان چھوٹے کھیل کیملازمین کیساتھ انصاف ہو
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عارضی ملازمین کرتے ہوئے کرنے کے کھیل کے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔