اکتوبر 2023: حماس نے سوشل میڈیا معلومات سے اسرائیلی ٹینک اور فوجی اڈے نشانہ بنائے
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تل ابیب:اسرائیلی فوج کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کئی سالوں تک اسرائیلی فوجیوں کی سوشل میڈیا پوسٹس، تصاویر اور ویڈیوز کا باریک بینی سے مطالعہ کر کے حساس فوجی معلومات جمع کیں، جمع کی گئی معلومات میں فوجی اڈوں، گاڑیوں اور خاص طور پر جدید مرکاوا مارک 4 ٹینک کے آپریشنز سے متعلق ڈیٹا شامل تھا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے ایک خصوصی انٹیلی جنس یونٹ نے ہزاروں سوشل میڈیا پوسٹس کا تجزیہ کر کے ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا، جس میں ٹینکوں کے خفیہ فیچرز بھی شامل تھے، جیسے کہ مرکاوا مارک 4 ٹینک کا خفیہ کِل سوئچ جس کے ذریعے ٹینک کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے، اسی معلومات کی بنیاد پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں حماس نے متعدد ٹینک ناکارہ بنائے اور کئی فوجی اڈوں پر کامیاب کارروائیاں کیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک وسیع زیر زمین ٹنل کمپلیکس دریافت کیا جسے پینٹاگون کا نام دیا گیا، یہ کمپلیکس وسطی غزہ کے مہاجر کیمپوں کے نیچے قائم تھا اور اس میں فوجی اڈوں، گاڑیوں اور یونٹس کے بارے میں جمع بے تحاشا ڈیٹا موجود تھا، کمپلیکس میں نقشے، دستاویزات، انٹیلی جنس رپورٹس، ورچوئل ریئلیٹی سمولیٹرز اور فوجی سازو سامان کے ماڈلز رکھے گئے تھے جو گزشتہ پانچ سال میں حاصل کی گئی سوشل میڈیا معلومات کی بنیاد پر تیار کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق حماس کے اس انٹیلی جنس یونٹ میں تقریباً 2,500 اہلکار شامل تھے، جنہوں نے تقریباً ایک لاکھ اسرائیلی فوجیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے دسیوں ہزار جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے، ان اکاؤنٹس کے ذریعے فوجیوں کی نقل و حرکت، آئرن ڈوم بیٹریوں کی پوزیشن، کمپنیوں کی تعیناتی اور آپریشنل روٹین کا تفصیلی ریکارڈ مرتب کیا گیا، بعض یونٹس کے داخلی واٹس ایپ گروپس تک رسائی بھی حاصل کی گئی، جس سے فوجیوں کی بھرتی اور پروموشن تک کی معلومات حاصل کی گئی۔
حماس نے جمع کی گئی معلومات کو نہ صرف دستاویزات کی شکل میں مرتب کیا بلکہ اڈوں اور سازو سامان کے تھری ڈی اور ورچوئل ریئلیٹی ماڈلز بھی تیار کیے، جن پر ایلیٹ نخبہ یونٹ نے تربیت حاصل کی۔ اس یونٹ کا مقصد ٹینکوں کو قبضے میں لے کر غزہ میں استعمال کرنا تھا، تاہم حملے کے دوران وہ صرف ٹینک ناکارہ کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
اسرائیلی فوجی افسران کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے تربیتی ماڈلز سے آگاہ تھے، لیکن ’’اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنے درست ہوں گے‘‘۔ مارچ میں ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ حماس کو نہال عوز بیس کی مکمل ساخت، فوجیوں کی تعداد، نقل و حرکت اور یہاں تک کہ کمانڈرز کے سونے کے کمروں تک کی معلومات موجود تھیں۔
واضح رہےکہ 7 اکتوبر کو تقریباً 215 فلسطینی مزاحمت کاروں نے اس بیس پر حملہ کیا، اسے چند گھنٹوں میں فتح کیا، 53 فوجیوں کو ہلاک اور 10 کو یرغمال بنا لیا، یہ واقعہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں حماس کی سب سے بڑی اور منظم کارروائیوں میں سے ایک تھا، جس کی منصوبہ بندی کئی سالہ انٹیلی جنس جمع آوری اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کی بنیاد پر کی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا انٹیلی جنس فوجیوں کی حاصل کی کی گئی
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :