ڈیجیٹل کریئٹرز میں سنگین ذہنی امراض کا خطرہ تشویشناک حد تک بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانا اور انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کرنا لاکھوں افراد کے لیے معمول بن چکا ہے۔
ہر بار جب کوئی صارف اپنے فون پر کوئی ایپ کھولتا ہے تو مختصر ویڈیوز کی نہ ختم ہونے والی قطار اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ یہی رجحان اب آمدنی کا ایک نیا ذریعہ بھی بن چکا ہے، جسے کچھ لوگ کل وقتی روزگار کی صورت میں اختیار کر چکے ہیں جبکہ کئی افراد اسے پارٹ ٹائم طور پر استعمال کرتے ہیں۔
بظاہر یہ دنیا دلکش اور آسان دکھائی دیتی ہے، مگر حالیہ تحقیق نے اس پیشے کے پس پردہ ایک سنجیدہ پہلو کو بے نقاب کیا ہے۔
امریکا میں کی جانے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق وہ افراد جو سوشل میڈیا کے لیے باقاعدگی سے ویڈیوز، تصاویر یا دیگر مواد تیار کرتے ہیں، ذہنی امراض کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق نے واضح کیا کہ آن لائن کریٹرز کی ایک بڑی تعداد انزائٹی، ڈپریشن، برن آؤٹ اور جذباتی دباؤ جیسے مسائل سے گزر رہی ہے۔ یہ مطالعہ شمالی امریکا کے 500 ایسے افراد پر مشتمل تھا جو فل ٹائم یا پارٹ ٹائم کریٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
اس حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کافی چونکا دینے والے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 62 فیصد کریٹرز نے برن آؤٹ، یعنی شدید ذہنی اور جسمانی تھکاوٹ کی شکایت کی۔ اسی طرح 65 فیصد افراد مسلسل اپنے مواد کی کامیابی کے دباؤ میں رہتے ہیں اور ہر ویڈیو یا پوسٹ کی کارکردگی اُن کی ذہنی کیفیت کو متاثر کرتی ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا کہ تقریباً 69 فیصد کریٹرز مالی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جس کے باعث انہیں ہر وقت یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ اگلی ویڈیو یا آئندہ مواد ان کی آمدنی برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوگا یا نہیں۔
اس تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ کچھ افراد اپنے کام سے متعلقہ دباؤ کے باعث خودکشی کے خیالات بھی رکھتے ہیں، اگرچہ وہ عملی طور پر ایسا اقدام نہیں کرتے۔
محققین کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو مسلسل پیش کرنا اور لاکھوں لوگوں کی رائے کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہاں تنقیدی تبصرے، نفرت آمیز رویے، تمسخر اور تحقیر کرنے والے جملے عام ہیں، جو کریٹرز کی ذہنی صحت کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کریٹرز کو اپنے فالوورز سے جڑے رہنے کا مستقل دباؤ رہتا ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ دن نیا مواد پوسٹ نہ کیا تو ان کی رسائی، مقبولیت اور آمدنی کم ہو سکتی ہے۔ یہی دباؤ انہیں بے چینی، ڈپریشن اور جذباتی تھکن میں مبتلا کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ذاتی زندگی اور آن لائن کام کے درمیان توازن رکھنا بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ انہیں ہر وقت نئے تصورات، نئے رجحانات اور نیا مواد تیار کرنے کی فکر ستاتی رہتی ہے۔
محققین نے واضح کیا کہ ایسے کریٹرز اکثر خود کو ناکافی سمجھنے لگتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ ان کا کام کمزور ہے یا وہ دوسرے کریٹرز جتنا موثر مواد نہیں بنا پا رہے۔ اس خود ساختہ موازنہ اور مثالی کارکردگی کے دباؤ سے ذہنی صحت بتدریج متاثر ہوتی ہے۔ جب لاکھوں صارفین مسلسل ایک شخص کے مواد پر اپنی رائے دیتے رہیں تو ہر تبصرہ، ہر ریویو اور ہر عددی نتیجہ اُس کی ذہنی کیفیت پر اثر چھوڑتا ہے۔
تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کی دنیا ایک جانب بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن دوسری طرف یہ ذہنی اور جذباتی چیلنجز بھی ساتھ لے کر آتی ہے۔
ماہرین نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن کریٹرز کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات، آگاہی اور معاونت کے نظام کو بہتر بنائیں تاکہ اس صنعت کا بڑھتا ہوا دباؤ اُن کی زندگیوں پر کم منفی اثر ڈالے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کرتے ہیں کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔