بھارت کیخلاف ہماری فتح کی سرٹیفکیشن امریکا دے رہا ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف : فائل فوٹو
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف ہماری فتح کی سرٹیفکیشن امریکا دے رہا ہے، بھارت کے ساتھ اب بھی جنگ کا خطرہ ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی صدر نے مداخلت کرکے جنگیں بند کروائیں، بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ ٹلا نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ایک اور جنگ کا خطرہ تھا، مئی کی جنگ کے فوری بعد امکان تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پراکسی وار کبھی ختم نہیں ہوئی، دہائیوں سے چل رہی ہے، پراکسی وار ماڈرن وار فیئر کا ایک ٹول ہے۔
انہوں نے کہا کہ پراکسی وار میں اب شدت آئی ہے، پراکسی وار 80 کی دہائی میں شروع ہوئی، لاہور، راولپنڈی میں دھماکے ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پراکسی وار خواجہ ا صف نے کہا کہ بھارت کے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔