عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹ، سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور منگل اور جمعرات کو مقررہ ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’سیاسی جماعتوں کو کلاس روم کی طرح نہیں چلایا جاسکتا‘ عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کو یہ پیغام کیوں بھیجا؟
سلمان اکرم راجہ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود گزشتہ 8 ماہ سے ملاقاتوں سے متعلق توہینِ عدالت کی متعدد درخواستوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
پارٹی اعلامیہ کے مطابق یہ قانونی جمود نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ آئین کے تحت بنیادی حقوق اور عدالتی وقار کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کا سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار
اس صورتِ حال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی انفرادی آزادی اور ملاقاتوں کے حق میں حائل رکاوٹیں غیر آئینی اور ناقابلِ قبول ہیں۔
پارٹی نے اعلیٰ عدلیہ سے فوری کارروائی کی اپیل کرتے ہوئے اپنے چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی جلد اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئین اعلامیہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی سپریم کورٹ سلمان اکرم راجہ عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلامیہ بانی چیئرمین پی ٹی ا ئی سپریم کورٹ سلمان اکرم راجہ سلمان اکرم راجہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔