انتخابی عملے کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی انتخابی عملے کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ اس کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں قائم 5 رکنی کمیشن کر رہا ہے۔
کمیٹی کے سامنے سہیل آفریدی اپنی حاضری درج کروا کر روسٹرم پر آئے، جہاں ان کے وکیل علی بخاری نے انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے وزیر اعلیٰ کو ہدایت کی کہ وہ بیٹھ جائیں۔
سماعت کے دوران علی بخاری نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف درخواست جمع کروائی، جس میں این اے-18 کے حسن ابدال میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان پر کارروائی کی استدعا کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ درخواست الگ دیکھی جائے گی، جبکہ علی بخاری نے استدعا کی کہ اسے اسی کیس کے ساتھ جوڑا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔