ضمنی الیکشن میں شکست پی ٹی آئی کے فوج مخالف بیانیے کا ردِعمل ہے،خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں بری شکست کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے دھاندلی کے الزامات متوقع تھے، تاہم انتخابی عمل میں کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو عدالتوں میں چلی جائے، معاملہ اقوامِ متحدہ یا عالمی عدالت میں لے جائے، لیکن نتائج واضح ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر اور باہر موجود افراد فوج کے خلاف جس قسم کی زبان استعمال کر رہے تھے، ضمنی الیکشن کے نتائج اسی بیانیے کا ردِعمل ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جن حلقوں سے پی ٹی آئی پہلے جیتی ہوئی تھی، اسی صوبے میں جہاں ان کی اپنی حکومت ہے وہ بھاری اکثریت سے ہار گئے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ سابقہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے حق میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام نے ماضی کی زیادتیوں کا ازالہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی حلیف ہے اور یہ سیاسی اشتراک برقرار رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پی ٹی آئی نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔