بالی ووڈ کی معروف ہدایت کار، کوریوگرافر اور ریئلٹی شو جج فرح خان نے انکشاف کیا ہے کہ یوٹیوب کے ذریعے ہونے والی آمدن ان کے پورے فلمی کیریئر کی کمائی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

فرح خان جنہوں نے ’جو جیتا وہی سکندر‘ کے مقبول گیت ’پہلا نشہ‘ کی کوریوگرافی سے شہرت پائی اور بعد ازاں ’میں ہوں نا‘ اور ’اوم شانتی اوم‘ جیسی بلاک بسٹر فلمیں ڈائریکٹ کیں، وہ انڈین آئیڈل، جھلک دکھلا جا، ناچ بلیے، انڈیا گاٹ ٹیلنٹ اور سیلیبریٹی ماسٹر شیف سمیت کئی ریئلٹی شوز میں جج کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پارٹیوں میں لوگ میرے شوہر کو نظرانداز کرتے اور مجھ ہی سے بات کرتے تھے، فرح خان کے انکشافات

انہوں نے 2024 میں یوٹیوب کی دنیا میں قدم رکھا اور اس کے بعد سے زبردست کامیابی سمیٹ رہی ہیں۔ ان کے یوٹیوب ولاگز میں ان کا مزاح، ہلکا پھلکا انداز اور کک دلیپ کے ساتھ ان کی دلچسپ کیمسٹری ناظرین میں بے حد مقبول ہے۔

فرح مختلف فنکاروں کے ساتھ کھانا پکاتے اور غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نظر آتی ہیں، جس نے ان کی ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل بنا دیا ہے۔ حال ہی میں اداکارہ سوہا علی خان کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فرح خان نے بتایا کہ بچوں کے بڑھتے اخراجات کے باعث انہوں نے یوٹیوب ولاگز بنانا شروع کیے لیکن اس پلیٹ فارم نے انہیں حیران کن مالی فائدہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: فلم ساز نے حد پار کی، مجھے اُسے لات مارنی پڑی، فرح خان کا انکشاف

یوٹیوب آمدنی کے بارے میں سوال پر فراح نے کہا کہ ’میری پوری فلمی زندگی میں شاید ایک سال میں بھی اتنے پیسے نہیں ملے جتنے میں یوٹیوب سے کما رہی ہوں۔ یہ آمدنی واقعی بہت بڑی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوٹیوب انہیں وہ تخلیقی آزادی دیتا ہے جو روایتی فلم یا ٹی وی پلیٹ فارمز پر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق ’یہ میرا چینل ہے، اس لیے نہ کوئی او ٹی ٹی پلیٹ فارم اور نہ کوئی پروڈکشن ہاؤس مجھ پر پابندیاں لگاتا ہے۔ ٹی وی چینلز کی وہ تقسیم کہ کون ’اے لسٹر‘ ہے اور کون نہیں، مجھے ہمیشہ ناپسند تھی‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ فرح خان یو ٹیوب یوٹیوب آمدنی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ یو ٹیوب یوٹیوب ا مدنی

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا