صارفین کے مطالبے پر یوٹیوب میں میسجنگ فیچر کی دوبارہ واپسی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
یوٹیوب نے ایک ایسا فیچر واپس لانے کا فیصلہ کر لیا ہے جسے صارفین کئی سالوں سے سب سے زیادہ یاد کر رہے تھے۔
دنیا بھر میں ویڈیوز شیئرنگ کے لیے استعمال ہونے والا یہ پلیٹ فارم 2019ء میں اپنا پرائیویٹ میسجنگ سسٹم اچانک بند کر چکا تھا، جس پر صارفین کی بڑی تعداد نے حیرت اور ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ اب کمپنی نے تقریباً 7 برس بعد میسجنگ فیچر کو دوبارہ پلیٹ فارم کا حصہ بنانے کا تجرباتی سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اس نئی آزمائش نے ایک بار پھر صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
کمپنی کے مطابق محدود صارفین کو یہ سہولت پہلے مرحلے میں دستیاب کی گئی ہے، جس کے ذریعے وہ یوٹیوب موبائل ایپ ہی میں براہِ راست ویڈیوز شیئر کرسکتے ہیں۔
اس نئے سسٹم میں ویڈیو شیئر کرتے ہی ایک فل اسکرین چیٹ ونڈو کھلتی ہے جہاں صارف فردِ واحد کے ساتھ گفتگو کر سکتا ہے یا پھر گروپ چیٹ بنا کر متعدد افراد کو شامل کر سکتا ہے۔ یہ انداز روایتی میسجنگ ایپس جیسا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ ویڈیو شیئرنگ مرکزی خصوصیت کے طور پر سامنے آتی ہے، جس سے گفتگو اور مواد کا تبادلہ یکجا ہو جاتا ہے۔
نیا فیچر صرف ٹیکسٹ میسجز تک محدود نہیں بلکہ اس میں جذبات کے اظہار کے لیے ایموجیز بھی شامل ہیں جب کہ دوست صارف کی بھیجی گئی ویڈیو کے جواب میں اپنی ویڈیو بھی فوری طور پر شیئر کر سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ انٹرفیس تیز، سادہ اور زیادہ مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ صارفین کو ایپ کے اندر ہی ایک مربوط تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
یوٹیوب اس وقت یہ فیچر صرف آئرلینڈ اور پولینڈ کے صارفین تک محدود رکھے ہوئے ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر فراہمی سے پہلے اس نظام کا فنی اور عملی طور پر جائزہ لینا ہے۔
یوٹیوب نے وضاحت کی ہے کہ صارفین برسوں سے اس فیچر کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے، کیونکہ ویڈیوز کو محض شیئر بٹن کے ذریعے واٹس ایپ، انسٹاگرام، ای میل یا دیگر میسجنگ پلیٹ فارمز پر بھیجنا ایک اضافی مرحلہ بن جاتا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی نے 2019ء میں یہ فیچر کیوں بند کیا تھا، اس کی کوئی واضح وجہ اُس وقت بیان نہیں کی گئی تھی۔ اب جو تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں، ان میں سیکورٹی اور پرائیویسی کو ترجیحی حیثیت دی گئی ہے۔
اس نئے نظام میں کسی بھی چیٹ کے آغاز سے قبل انوائیٹ بھیجنا ضروری ہوگا اور اس فیچر کو ابتدائی طور پر صرف 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد ہی استعمال کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں، میسجنگ میں ان سینڈ (unsend) کا آپشن بھی موجود ہوگا، جبکہ صارف بلاک اور رپورٹ جیسے حفاظتی ٹولز بھی استعمال کر سکیں گے۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ میسجز پر بھی وہی اصول لاگو ہوں گے جو ویڈیوز اور کمنٹس پر نافذ ہیں، یعنی ہر پیغام یوٹیوب کمیونٹی گائیڈ لائنز کے تحت جانچا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔