نواز شریف کا عرب امارات ،مولانا فضل الرحمن کا اکاؤنٹ جرمنی سے آپریٹ ہو رہا ہے
سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کا مقام غربی ایشیا ہے ، اسکرین شارٹس شیئر

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس نے اپنے پلیٹ فارم پر موجود صارفین کی لوکیشن دکھانے کا نیا فیچر متعارف کرا دیا۔رپورٹ کے مطابق نئے فیچر کے ذریعے صارفین اپنے علاوہ دوسروں کی پروفائلز پر جا کر یہ دیکھ سکیں گے کہ کسی فرد یا اکاؤنٹ کا اصل مقام کیا ہے ، یہ فیچر صارفین کے بارے میں مزید معلومات ظاہر کرے گا تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ وہ پلیٹ فارم پر کس سے بات کر رہے ہیں۔گذشتہ روز اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایکس کے ہیڈ آف پراڈکٹ کا کہنا تھا کہ چند گھنٹوں میں ہم About This Account (اس اکاؤنٹ کی معلومات) کے فیچر کو عالمی سطح پر متعارف کرائیں گے ، جس سے آپ دیکھ سکیں گے کہ کوئی اکاؤنٹ کس ملک یا علاقے میں واقع ہے ۔ یہ معلومات پروفائل پر ایکس پر اکاؤنٹ بنانے کی تاریخ پر ٹیپ کرنے سے دستیاب ہو گی‘۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اس سوشل پلیٹ فارم کی شفافیت اور سچائی کو یقینی بنانے کی جانب پہلا اہم قدم ہے ۔اسی سلسلے میں ہم پروفائلز پر نئی معلومات دکھانے کا تجربہ کر رہے ہیں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اکاؤنٹ کس ملک سے تعلق رکھتا ہے اور دیگر تفصیلات‘۔اپنے اکاؤنٹ کی معلومات ویب یا ایکس موبائل ایپ میں دیکھنے کے لیے آپ اپنے پروفائل پر ’جوائنڈ‘(ایکس پر اکاؤنٹ بنانے کی تاریخ) پر کلک کریں گے ۔ یہاں سے آپ ایک صفحے پر پہنچ جائیں گے جو یہ معلومات دکھاتا ہے کہ یہ ایکس یا ٹوئٹر اکاؤنٹ کب بنایا گیا؟، اکاؤنٹ کس ملک میں ہے ؟ کتنی بار نام تبدیل کیا گیا اور آخری تبدیلی کب ہوئی، اکاؤنٹ ایکس سے کیسے منسلک ہیں، مثلاً امریکہ کے ایپ سٹور سے یا گوگل پلے کے ذریعے ۔ایکس کے مطابق یہ فیچر صارف کے اکاؤنٹ میں دی گئی معلومات، آئی پی ایڈریس اور دیگر پبلک ڈیٹا پوائنٹس کی بنیاد پر لوکیشن ظاہر کرتا ہے ۔اگر کسی صارف نے اپنی پروفائل میں اپنا ملک یا شہر شامل کیا ہے ، تو وہ ظاہر ہوگا، اگر صارف نے لوکیشن خفیہ رکھی ہے ، تو سسٹم قریب ترین مقام ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا، یہ فیچر خاص طور پر ان مشہور اکاؤنٹس کے لیے مددگار ہے جو اپنی لوکیشن واضح کرنا چاہتے ہیں یا جن میں صارفین کی دلچسپی زیادہ ہو۔یہاں یہ یاد رہے کہ ایکس صارفین کو یہ بھی اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی لوکیشن ملک ظاہر کریں یا صرف علاقہ یا خطہ۔پہلے یہ صرف اُن ممالک کے لیے تھا جہاں اظہارِ رائے پر پابندیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اب امریکی صارفین بھی ملک یا خطہ دکھانے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم ڈیفالٹ کے طور پر ملک ہی دکھایا جائے گا۔ایکس پر مختلف صارفین نے بھی پاکستانی سیاستدانوں کے اکاؤنٹس کی لوکیشن کے شکرین شاٹ شیئر کیے ، سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کا مقام غربی ایشیا نظر آ رہا ہے ۔اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا اکاؤنٹ متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ دکھائی دیا۔اس کے علاوہ جے یو آئی رہنما مولانا فضل الرحمن کا اکاؤنٹ جرمنی سے آپریٹ ہو رہا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایکس پر

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری