یادگار فلم ’’شعلے‘‘ آئندہ ماہ نئے اختتام کیساتھ دوبارہ ریلیز ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
بالی ووڈ کی کلاسک فلم شعلے آئندہ ماہ 2 دسمبر کو بھارت بھر کے سینما گھروں میں نئے اختتام کے ساتھ دوبارہ نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔
1975 میں ریلیز ہونے والی یہ بالی ووڈ فلم اپنی شاندار کہانی، یادگار ڈائیلاگز اور مضبوط کرداروں کی وجہ سے آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔
اس فلم میں دھرمیندر، امیتابھ بچن، امجد خان، سنجیو کمار، ہیما مالنی اور جیا بچن نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ اب فلم کے مداح اصل اختتام دیکھ سکیں گے جو پہلے کبھی عوام کے سامنے نہیں آیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کے اصل کلائمیکس کو پہلے سینسر بورڈ کی ہدایات کے تحت بدلنا پڑا تھا۔ 1975 میں بھارت میں ایمرجنسی نافذ تھی، جس میں آزادی اظہار پر پابندی، سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں اور میڈیا پر سخت سینسرشپ شامل تھی۔
اس دور میں اصل اختتام میں ٹھاکر، گبر سنگھ کو کانٹے والے جوتے سے ہلاک کرتا ہے لیکن سینسر بورڈ کے دباؤ کی وجہ سے ریلیز شدہ ورژن میں پولیس گبر کو گرفتار کر لیتی ہے اور ٹھاکر قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے۔
رمیش سپی نے بتایا کہ اب فلم کے 50 سال مکمل ہونے پر مداح وہ اختتام دیکھ سکیں گے جو ان کے مطابق فلم کو مزید تاریخی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرق صرف یہ ہے کہ اصل کلائمیکس میں ٹھاکر اپنے طریقے سے انصاف کرتے ہیں، جبکہ پچھلے ورژن میں قانون کی بالادستی دکھائی گئی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ری ریلیز تقریباً 1,500 اسکرینوں پر ہوگی، جو کسی ریسٹورڈ کلاسک فلم کے لیے بھارت میں سب سے بڑی نمائش میں سے ایک ہے۔ شعلے کے مداح 12 دسمبر کو اپنے پسندیدہ کرداروں اور اصل اختتام کے ساتھ اس تاریخی فلم کا دوبارہ لطف اٹھائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلم کے
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔