WE News:
2026-07-24@06:03:22 GMT

لاہور میں کتابوں کا جادو گھر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

محمد خالد اختر اور نیّر مسعود کے بچپن اور لڑکپن کی حسین ترین یاد دارالاشاعت پنجاب، لاہور کی کتب تھیں جن سے حاصل لطف عمر بھر ان کے ساتھ رہا۔

اس زمانے میں جب وہ اردو ادب میں اعلیٰ مقام حاصل کر چکے تھے اور ایک دوسرے کے مداح تھے، ان کے درمیان مراسلت کا سلسلہ چل نکلا جس میں کتابوں کے تذکرے کو مرکزیت حاصل تھی۔ ان کے خطوط کتاب دوست ادیب رفیق احمد نقش نے 2002 میں تحریر میں شائع کردیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کتاب گزرے زمانوں تک لے جانے والی سرنگ ہے‘

ان خطوں میں دارالاشاعت پنجاب، لاہور اور اس کی کتابوں سے تعلق خاطر کے اظہار پر ہم بات کریں گے اور خالد اختر اور نیّر مسعود کی طرح کے چند اور عشاق کا تذکرہ بھی رہے گا جنھوں نے اردو ادب میں جھنڈے گاڑنے سے پہلے دارالاشاعت پنجاب، لاہور کی کتابوں کا کورس لیا تھا۔

سب سے پہلے اس اشاعتی ادارے کی کتاب زلفی کی بات کر لیتے ہیں۔

میں نے معروف ادیب محمد سلیم الرحمان سے اس کتاب کی تعریف سن رکھی ہے، ان کے لیے بھی یہ دل پذیر تصنیف محمد خالد اختر اور نیّر مسعود کی طرح گزرے وقت کی خوبصورت یاد ہے۔

یہ کتاب رڈیارڈ کپلنگ کی جنگل بکس کا اردو روپ ہے لیکن ترجمہ ایسا ہے کہ خالد اختر، عنایت اللہ کو مترجم نہیں بلکہ زلفی کا مصنف گردانتے ہیں۔

ان کی دانست میں عنایت اللہ نے شیکسپیئر کے ڈرامے بھی اردو میں منتقل کیے لیکن وہ پھیکے اور بے رنگ تھے اور وہ ان میں زلفی جیسا اعجاز پیدا نہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک ریاض اور پاکستان کی ریاست و سیاست

اس ترجمے کی زبان مانجھنے کے سلسلے میں انہوں نے اسماعیل میرٹھی کا حوالہ دیا تو مجھے تذکرۂ غوثیہ کا خیال آیا جس کی غیر معمولی مقبولیت کا ایک بڑا سبب اسماعیل میرٹھی کا پُرتاثیر طرزِ تحریر ہے جنھوں نے سید غوث علی شاہ قلندر پانی پتی کے ملفوظات و حالات دلنشیں پیرایے میں رقم کر کے اسے نامی گرامی ادیبوں کی بھی پسندیدہ کتاب بنا دیا تھا جن میں انتظار حسین، اشفاق احمد، محمد خالد اختر اور محمد سلیم الرحمان شامل ہیں۔

خالد اختر کے زلفی سے متعلق تاثرات کے جواب میں نیّر مسعود نے خط میں لکھا: زلفی کو یاد کر کے آپ نے ایک اور پرانا زخم تازہ کر دیا۔ قصر صحرا، عمرو کی عیاریاں اور الحمرا کی طرح اس کتاب نے بھی اپنا عاشق بنا لیا تھا۔ اس کا ایک گیت نما ٹکڑا:

بھوکے ہیں یارو، کر لیں شکار

(اور اس کے بعد غالباً عف عف عف)

آج تک یاد ہے۔ بچپن کے اس زمانے کے بعد یہ کتاب دیکھنے کو نہیں ملی۔

خالد اختر اور نیّر مسعود کی خط کتابت میں دارالاشاعت کی کتاب قصر صحرا از عظیم بیگ چغتائی پر بھی تبادلہ خیال شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی کتب بینی

خالد اختر نے سات آٹھ برس کی عمر میں اس کتاب کا مطالعہ کیا تو اس وقت وہ ٹائیفائڈ کے شدید حملے کے بعد رو بہ صحت تھے۔

ان کے بقول اگر کوئی اچھی پری مجھے اپنے بچپن کے کچھ وقفے لوٹا دے تو میں اسی وقفے میں جینا چاہوں گا جب میں یہ ہوش ربا ایڈونچرس کہانی سادھے ہوئے دم سے پڑھ رہا تھا۔

یہ کتاب تین حصوں میں شائع ہوئی تھی۔ پہلے دو حصوں سے خالد اختر نے حظ اٹھایا لیکن تیسرے حصے میں زیادہ لطف نہیں آیا۔

انڈیا میں قصر صحرا شائع ہوئی تو نیّر مسعود نے دانش محل لکھنؤ سے اس کے تینوں حصے خرید کر خالد اختر کو بھجوائے لیکن حق بہ حق دار رسید کی نوبت نہیں آئی اور کتاب بیچ میں ہی کسی نے اچک لی۔

اس کے بعد اسے خالد اختر تک پہنچانے کا پکا انتظام کیا گیا۔ لکھنؤ میں اس کی دوسری اور تیسری جلد شان الحق حقی کے سپرد ہوئی جنھوں نے کراچی میں اسے خالد اختر کے گھر پہنچایا۔ بعد ازاں پہلی جلد دستیاب ہونے پر اسے آصف فرخی کی معرفت بھیجا۔

نیّر مسعود نے یہ بتانا بھی ضروری خیال کیا، یہ نیا ایڈیشن آپ دیکھیں گے کہ صاف ستھرا چھپا ہے لیکن دارالاشاعت پنجاب، لاہور کی بات ہی اور تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ اور شاعری

خالد اختر نے خط میں لکھا: قصر صحرا کے دونوں حصے میں نے پڑھ ڈالے۔ ہاں، اس حیرت، اس دھک سے رہ جانے والے دل کے ساتھ نہیں جس سے اپنے لڑکپن میں پڑھے تھے۔ ویسے دونوں اس عمر میں بھی دلچسپ لگے۔

نیّر صاحب کا تاثر ان سے مختلف تھا:

الحمرا کے برعکس قصر صحرا کو اب پڑھ کر مایوسی ہوئی۔ تار کا کردار کتنا دلچسپ معلوم ہوتا تھا، اب وہ بات نہیں محسوس ہوئی۔ حالاں کہ اب بھی پوری کتاب کا سب سے دلچسپ کردار وہی ہے۔

اب اس کہانی میں قرۃالعین حیدر کو بھی شامل کرتے ہیں جو بچپن میں دارالاشاعت کا نام اس طرح سے دہراتی تھیں: دا۔ را۔ لا۔ شاعت۔ اس ادارے کے ہفتہ وار اخبار پھول میں درج کتابوں کا نام مع قیمت پڑھنا ان کا من پسند مشغلہ تھا۔ اس گردان میں قصر صحرا کے تینوں حصے شامل تھے۔

ان کا ڈرائیور نذیر اکثر کتابوں کی قیمتیں سنانے کی فرمائش کرتا تو وہ رواں ہو جاتیں۔

ان کے بقول چپ شہزادی تین آنے، راکھ بیگم تین آنے، بیگن سندری تین آنے کی صوتی کیفیت مجھے بہت اچھی لگتی اور قصر صحرا فسوں خیز۔ قصر صحرا سے آج بنو امیہ کے بنائے ہوئے اردن کے قلعے کا خیال آجائے گا مگر اس وقت تو یہ دو لفظ بالکل مسحور کن تھے۔ ٹیلی ویژن اور امریکن کومکس سے لبالب آج کی دنیا میں پروان چڑھنے والے بچے نٹ کھٹ پانڈے تین آنہ، عقل مند انگشتانہ تین آنہ، چوہے بلی نامہ تین آنہ کی نعمت سے محروم ہیں۔

اردو داستانوں سے محمد سلیم الرحمان کی غیر معمولی دلچسپی اور طلسم ہوش ربا سے ان کے عمر بھر کے پیمانِ وفا کا کھرا بھی دارالاشاعت پنجاب، لاہور تک جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلی مسلمان مدیرہ محمدی بیگم اور پہلی خاتون پائلٹ حجاب امتیاز علی کا آپس میں کیا رشتہ تھا؟

سنہ 1940 میں علی گڑھ میں ان کے والد عقیل الرحمان ندوی نے دارالاشاعت سے بچوں کی کوئی تیس کتابیں منگوائی تھیں۔ ان میں عمرو عیار نامی کتاب بھی تھی۔ اسے حفیظ جالندھری نے آسان زبان میں لکھا تھا۔

پہلے حصے میں امیر حمزہ اور عمرو عیار کے کارنامے تھے۔ دوسرا حصہ طلسم ہوشربا کی جلد اول کے بعض واقعات پر مبنی تھا۔ یہ دونوں حصے سلیم صاحب کو بے حد پسند آئے۔ 16 برس کی عمر تک طلسم ہوش ربا کی آٹھوں جلدوں تک رسائی ہو گئی۔

داستانوں سے یہ لگاوٹ ہی انہیں ہومر کی اودیسّی کے ترجمے کی طرف لے کر گئی جسے انہوں نے 22 برس کی عمر میں مکمل کر لیا تھا جو پھر جہاں گرد کی واپسی کے عنوان سے شائع ہوا۔

علی گڑھ میں سلیم صاحب کے بچپن کے ہمجولی صلاح الدین محمود شوقِ مطالعہ میں ان کے رفیق تھے۔ پاکستان میں اس جوڑی کی کتابوں سے محبت اپنی مثال آپ ٹھہری۔

صلاح الدین محمود کی ذہنی نشوونما میں دارالاشاعت پنجاب کے پھول اور اس ادارے کی کتابوں کا ہاتھ تھا۔

1972 میں ماہنامہ کتاب، لاہور میں نیا ادارہ اور سویرا کے بانی نذیر احمد چودھری کے بارے میں اپنے مضمون درہ کوہ کا نگران — ایک یادداشت میں انہوں نے لاہور سے اپنے رشتے کی صراحت کرتے ہوئے لکھا تھا:

لاہور نے مجھ کو میرا پہلا تحفہ بھیجا اور ہمیشہ کے واسطے میرے لہو کو اپنی زبان کا منبع حاصل ہوا۔ لاہور سے پہلا تحفہ مجھ کو ایک پھول کا آیا تھا۔ اس پھول کے ڈنٹھل پر ایک اسمِ اعظم سا کندہ تھا جب میں نے اپنی اکیل کی آہستگی میں اس اسم کو گرفت کیا تھا تو لکھا تھا، دارالاشاعت پنجاب، لاہور۔

یہ بھی پڑھیں: چائے کے اشتہار میں علامہ اقبال اور کے ایل سہگل

پھر میں جلد اس اسم کے ورد کا ماہر ہو گیا تھا۔

صلاح الدین محمود نے جسے اسم اعظم کہا اسی دارالاشاعت پنجاب، لاہور کو خالد اختر نے میجیکل نام قرار دیا تھا اور نیّر مسعود نے اس پر صاد کرتے ہوئے لکھا: اس نام کا جادو مجھ پر اس وقت بھی چلتا تھا جب میں اسے دارا، لاشاعت پڑھتا تھا۔

پھر وہ اپنے ایک تجربے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ایک دفعہ یونیورسٹی لائبریری میں شیخ حسن کے عنوان سے عملیات پر ناولٹ کا ترجمہ نظر آیا جس کے مترجم مولوی ممتاز علی تھے اور ناشر دارالاشاعت پنجاب، لاہور۔ نیّر مسعود لکھتے ہیں:

صرف ناشر کی وجہ سے کتاب اَشو کرا لایا۔ پڑھی تو وہی کیفیت پائی جو وہاں کی دوسری کتابوں میں پاتا تھا۔ معلوم نہیں یہ کیفیت کتاب کی تھی یا دارالاشاعت کے نام کی۔

دلچسپ بات ہے کہ ادارے کے نام کی ادائیگی قرۃالعین حیدر اور نیّر مسعود کی طرح معروف فکشن نگار حسن منظر بھی جوڑوں سے کرتے تھے۔

اس ادارے کے رسالے تہذیب نسواں اور پھول اور کتابوں سے ان کی واقفیت مراد آباد میں اسکول کے زمانے میں ہوئی تھی۔

ان کے بقول: میں بچوں کی زبان سے ادارے کا نام کہہ کر سنتا تھا، ٹکڑے ٹکڑے: دا، را، لا، شا… گا، ما، دھا، نی، سا، جیسے سرگم کے سر ہوں۔

سو باتوں کی ایک بات حسن منظر نے یہ کہی:

پبلشنگ ادارہ کیا تھا پورے ملک کی تعلیم گاہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور آنے کی خواہش لیے دنیا سے جانے والا موسیقار

بچوں کو کتاب خریدنے کی ترغیب دینے کے دلچسپ طریقے کا حوالہ بھی حسن منظر کے مضمون کتابوں کے پجاری میں آتا ہے:

ہر مہینے چھپنے والی کتاب جس پر سنہری پیسے بنے ہوتے تھے اور ترغیب دلاتے تھے کہ بچہ پیسہ پیسہ روز جوڑے اور مہینے کے آخر میں ادارے کو بھیج دے تو اسے ہر ماہ نئی کتاب ملے گی… مثلاً مسخروں کی کہانیاں، ٹھگوں کی کہانیاں۔

دارالاشاعت پنجاب کی کہانی الحمرا کے افسانے کے بنا پوری نہیں ہوتی۔ یہ واشنگٹن ارونگ کی کتاب ٹیلز آف الحمرا کا غلام عباس کے قلم سے آزاد ترجمہ تھا۔ یہ کتاب اردو کے بڑے نامی گرامی ادیبوں کو اپنے بچپن میں محبوب رہی۔ خالد اختر اور نیّر مسعود کے نامے بھی اس کے ذکر سے تہی نہیں۔

نیّر مسعود نے خالد اختر کو لکھا: بہت پہلے نقوش کے شخصیات نمبر میں شفیق الرحمان پر آپ کے مضمون میں یہ پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی تھی کہ آپ دونوں دارالاشاعت والی الحمرا کے عاشقوں میں ہیں۔ میں تو بڑے اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ بچپن سے لے کر آج تک جو کچھ بھی پڑھا ہے اس میں اس الحمرا سے زیادہ کسی کتاب نے مجھ کو مسحور نہیں کیا۔

نیّر مسعود کو قصر صحرا نے تو پہلے جیسا مزہ نہ دیا لیکن الحمرا کے افسانے سے وہ عشروں بعد بھی پہلے کی طرح لطف اندوز ہوئے۔ محمد سلیم الرحمان نے 75 سال بعد اسے پڑھ کر مجھے بتایا تھا کہ یہ انہیں بچپن کی طرح پرکشش لگی۔

خالد اختر کا دارالاشاعت پنجاب کے بارے میں بیانِ حلفی حاصل کرنے کے لیے ہمیں ان خطوط کی دنیا سے باہر نکل کر ان کی کتاب ریت پر لکیریں کی طرف بڑھنا ہو گا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اور شفیق الرحمان گھر والوں سے چوری چھپے دارالاشاعت پنجاب سے کتابیں منگواتے تھے اور ان کی وی پی چھڑانے کے لیے جوڑے ہوئے پیسے استعمال میں لاتے تھے۔ خالد اختر نے لکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یادوں کے ’سات رنگ‘ اور یاسمین طاہر کی آواز کا جادو

کیا ہم بادشاہوں کی طرح خوش نہ ہوتے تھے جب کتابوں کا بنڈل ہمارے قبضے میں ہوتا تھا! اور کس دھڑکن اور اضطراب سے ہم اس بنڈل کو کھولتے تھے، اور کیسی خوبصورت کتابیں وہ ہوتی تھیں! قصر صحرا، عمرو عیار، جنوبی سمندر کی کہانی، الحمرا کی کہانیاں۔ میں نے ایسی کتابیں پھر نہیں پڑھیں اور نہ کبھی پڑھوں گا۔

وہ لڑکے خوش قسمت ہیں جنہوں نے اپنے لڑکپن میں انہیں پڑھا ہے۔ شفیق اکثر کہتا ہے کہ وہ جو کچھ ہے انہی کتابوں کی بدولت ہے۔ انہوں نے ہمیں اصل ادب کے حسن اور لطافت سے روشناس کیا اور ہمارے تخیل کو جلا دی۔

نیّر مسعود دارالاشاعت پنجاب کی کتابوں کے سحر سے کبھی نہیں نکل سکے۔

بچپن میں ان کتابوں تک ان کی رسائی کا ذریعہ لکھنؤ میں معروف فکشن نگار الطاف فاطمہ کا گھر تھا۔

ان کے بقول: بچوں کی کتابیں مجھے پڑوس میں بہن الطاف فاطمہ صاحبہ کے یہاں پڑھنے کو ملتی تھیں۔ شیشے لگی ہوئی ایک چھوٹی سی الماری میں دارالاشاعت کی کتابیں اور بچوں کی دوسری کتابیں سلیقے سے سجی رہتی تھیں اور کبھی کبھی میرا پورا دن ان کتابوں کی سیر میں نکل جاتا تھا۔

تقسیم کے بعد الطاف فاطمہ کے گھرانے نے پاکستان ہجرت کی۔ ادھر لکھنؤ میں ان کا سامان نیلام ہوا تو اس میں کتابوں سے بھری الماری بھی تھی جس میں نیّر مسعود کی جان تھی۔

ان کے والد مسعود حسن رضوی ادیب کا اصول تھا کہ وہ کسی عزیز یا واقف کار کا ایسا سامان نہیں خریدتے تھے جو انہیں مجبوراً فروخت کرنا پڑے۔

نیّر مسعود نے الماری خرید لینے کے لیے اپنی والدہ کو وکیل کیا لیکن وہ شوہر کی عدالت میں یہ مقدمہ ہار گئیں۔ نیّر مسعود نے کتابوں کی الماری کی نیلامی کا یہ دل دوز منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا جو ان کے ذہن پر اتنا پختہ نقش تھا کہ 50 برس بعد خالد اختر کو دل کا حال یوں لکھا جیسے کل کی بات ہو۔ ان کی ناراضی دور کرنے کے لیے مسعود صاحب نے بیٹے کو مکتبہ جامعہ کی دکان سے بچوں کی بہت سی کتابیں دلوا دیں لیکن بقول نیّر مسعود: کجا مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، کجا دارالاشاعت پنجاب۔

صاحبو، یہ کہانی ناتمام ہے شاید، البتہ یہ جاننے میں ہماری مدد ضرور کرسکتی ہے کہ ایک اشاعتی ادارہ چاہے تو اپنے مرکز سے دور شہروں کے نوخیز ذہنوں کو شاداب کرکے انہیں بڑا ادب تخلیق کرنے کے لائق بنا سکتا ہے اور وہ سربلندی حاصل کرنے کے بعد اسے بہانے بہانے بڑی محبت اور حسرت سے یاد کرتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمود الحسن

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

we news جادو گھر دارالاشاعت پنجاب کتابیں لاہور محمد خالد اختر محمود الحسن نیر مسعود.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جادو گھر دارالاشاعت پنجاب کتابیں لاہور محمد خالد اختر محمود الحسن خالد اختر اور نی ر مسعود محمد سلیم الرحمان دارالاشاعت پنجاب اور نی ر مسعود کی میں دارالاشاعت محمد خالد اختر خالد اختر نے یہ بھی پڑھیں ان کے بقول الحمرا کے کتابوں کی کی کتابوں کتابوں سے کتابوں کا انہوں نے کی کہانی کی کتاب کرنے کے یہ کتاب بچوں کی تھے اور کی طرح کے بعد کے لیے

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا