عالمی اقتصادی گورننس میں مزید “جنوبی طاقت” کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
عالمی اقتصادی گورننس میں مزید “جنوبی طاقت” کا اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
جوہانسبرگ :جی 20 رہنماؤں کا بیسواں سربراہی اجلاس جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کے دوران چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے اپنی تقاریر میں زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی اقتصادی بحالی میں کمزوری ، اختلافات اور حکمرانی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے یکجہتی اور تعاون ضروری ہے۔ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ سربراہی اجلاس کے افتتاحی دن ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا جو کہ جی 20 سربراہی اجلاس کی تاریخ میں پہلا موقع ہے، جس سے تمام فریقوں کی جانب سے یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
موجودہ سربراہی اجلاس میں، چین نے متعدد عملی اقدامات اٹھائے ہیں ۔ چین نے جنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر “افریقی جدیدیت کی حمایت کے لیے تعاون کا اقدام” پیش کیا ۔ چین ایک عالمی ترقیاتی ادارہ قائم کرے گا اور افریقی ممالک کی آزادانہ طور پر ترقی کی صلاحیت کو مؤثر طریقے سے بڑھانے کے لیے بھر پور کوشش کرے گا تاکہ تمام ممالک کی مشترکہ ترقی میں نئی قوت ڈالی جا سکے ۔ دنیا کو اس وقت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور خوراک شامل ہیں۔ چین نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تین تجاویز پیش کی ہیں جن میں حیاتیاتی اور ماحولیاتی تحفظ پر تعاون کو مضبوط بنانا، سبز توانائی پر تعاون کو مضبوط بنانا اور خوراک کی حفاظت پر تعاون کو مضبوط بنانا شامل ہے ۔
چین نے اس بات پر زور دیا کہ جی 20 کو کثیرالجہتی کو برقرار رکھنے میں پیش پیش رہنا چاہیے اور عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ڈبلیو ٹی او جیسے اداروں کی اصلاحات کو تیز کرنا چاہیے۔ اس سے ترقی پذیر ممالک کی آواز کو بڑھانے اور ایک زیادہ منصفانہ اور کھلے بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظم و نسق کی تعمیر میں مدد ملے گی۔آج کی عالمی معیشت گہرائی سے مربوط نظر آتی ہے اور کوئی بھی ملک اکیلا ترقی نہیں کر سکتا۔ جیسے جیسے چین کی جدید کاری آگے بڑھ رہی ہے اور عالمی گورننس کے اقدامات نافذ ہو رہے ہیں، چین گلوبل ساوتھ کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ، جی 20 کی ترقی اور عالمی اقتصادی گورننس میں مزید “جنوبی طاقت” کو شامل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی آئینی عدالت میں خالی اسامیوں پر کرنے کیلئے نوٹیفکیشن جاری اگلی خبرپاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف متنازع ٹوئٹ کیس: ہادی علی چٹھہ اور پراسکیوٹر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا سولر پینل درآمد کرنے والا ملک بن گیا خیبرپختونخوا: بنوں میں فورسز کے آپریشن میں بھارتی حمایت یافتہ 22 دہشتگرد ہلاک سیاسی پیشرفت کے باوجود مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال بدستور سنگین ہے، پاکستان پانچ سال کی آئینی مدت پوری، گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل پاکستان دنیا کےساتھ مل کر خواتین پرتشدد کیخلاف آواز بلند کر رہا ہے ، وزیراعظم شہباز شریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عالمی اقتصادی
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔