اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے گزشتہ روز یہاں ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور سکیورٹی سمیت تمام شعبوں میں تاریخی برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے  پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز السعود کے لیے اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور سکیورٹی سمیت  دیگر تمام شعبوں میں تاریخی برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔  وزیراعظم نے جنرل الرویلی کا خیرمقدم کیا اور برادر مملکت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ہر وقت فراہم کی جانے والی غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی پر سعودی عرب کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مشترکہ مذہب، یکساں اقدار اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ وزیراعظم نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ریاض کے اپنے انتہائی کامیاب دوروں کا ذکر کیا  جن کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان تاریخی سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم نے مشترکہ تربیت، مشقوں اور مہارت کے تبادلے سمیت دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کو بھی اجاگر کیا۔ جنرل الرویلی نے سعودی قیادت کی جانب سے وزیراعظم اور پاکستانی عوام کو تہنیتی پیغام پہنچایا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ موجودہ بہترین دفاعی اور تذویراتی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے مملکت کی مضبوط خواہش کا اعادہ کیا۔ ادھر آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان دفاع، سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں ’دیرینہ اور سٹرٹیجک‘ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا یہ گفتگو چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حمید الرویلی کے درمیان جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوئی۔ آئی ایس پی آر نے بیان میں بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی، جس میں بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور سٹرٹیجک عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں دفاعی تعاون، سکیورٹی اشتراک اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، جو دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی بنیادی ستون ہیں۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق معزز مہمان نے سعودی مسلح افواج کے ساتھ متعدد شعبوں میں پاکستان کے تعاون کو سراہا اور اس مضبوط شراکت کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ جی ایچ کیو پہنچنے پر جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے بھی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے عالمی اور علاقائی سلامتی کے ماحول پر تبادلہ خیال کیا۔ معززین نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور حرمین الشریفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ معزز مہمان نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔ جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے پاکستان- سعودیہ سٹرٹیجک تعلقات کو مضبوط اور گہرا کرنے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے تعاون کو بھی سراہا۔ قبل ازیں، جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر تینوں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جنرل فیاض بن حمید الرویلی نے کو مزید مضبوط بنانے عزم کا اعادہ کیا مسلح افواج کے سعودی عرب کی دونوں ممالک نے پاکستان پاکستان کے تعلقات کو دفاعی اور کے مطابق بنانے کے تعاون کو کے دوران پاک فوج چیف ا ف کے لیے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان