پاکستان یاد آرہا ہے، رجب بٹ کی اووَر ایکٹنگ وائرل، صارفین کے دلچسپ کمنٹس
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
رجب بٹ اپنی کسی نہ کسی حرکت یا بات کی وجہ سے سرخیوں میں بنے رہتے ہیں۔ اب حال ہی میں ان کی ایک بیرون ملک سے ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی جس کی وجہ اُن کی ویڈیو میں اووَر ایکٹنگ ہے۔
رجب بٹ ایک مشہور پاکستانی شخصیت ہیں جن کے مداحوں کی بڑی تعداد ہے۔ ان کے یوٹیوب پر 80 لاکھ کے قریب سبسکرائبرز ہیں اور وہ بیٹنگ ایپلی کیشنز کی تشہیر سے متعلق الزامات کی وجہ سے پاکستان سے فرار ہونے کے بعد اس وقت برطانیہ مقیم ہیں۔
ان کا خاندان، ان کے والدین، بہن، بیوی اور بیٹا پاکستان میں رہتا ہے بشمول ان کے قریبی دوستوں کے بھی جیسے حیدر، ڈوگر اور دیگر۔
عجب بٹ اپنے تنازعات اور متنازع ویڈیوز کی وجہ سے تقریباً روزانہ ہی سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اس بار وہ اووَر ایکٹنگ وجہ سے وائرل ہوئے ہیں جس میں وہ پاکستان اور اپنے دوستوں کو بہت یاد کررہے ہیں۔
ویڈیو میں رجب بٹ نے کہا ہے کہ انہیں اپنے دوستوں سے کبھی حسد نہیں ہوا لیکن اب وہ اپنے دوستوں پر رشک کرنے لگے ہیں جو لاہور میں مزے کر رہے ہیں، باہر ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہے ہیں، ڈرائیونگ کر رہے ہیں، اکٹھے مزے کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے انہوں نے اپنی بے بسی، غصہ اور جارحیت کا مظاہرہ کیا جس میں وہ رو بھی رہے ہیں چیخ بھی رہے ہیں۔ صارفین نے اُن کی اس اداکاری پر دلچسپ تبصرے کیے۔
View this post on Instagramایک صارف نے کہا کہ بھائی پلیز، اب خودکشی کرلو۔ ایک اور کا کہنا تھا کہ بھائی اووَر ایکٹنگ مت کرو، پلیز۔ ایک نے لکھا، ’ہمیں بالکل بھی ترس نہیں آرہا‘۔ صارفین میں کسی نے رجب کارٹون بھی لکھا۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ سب ویڈیو کے بغیر بھی کرسکتا تھا لیکن پیسے کمانے تھے نا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔