بابر اعظم کو آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
پاکستان کے مایہ ناز بیٹر بابر اعظم کو سری لنکا کے خلاف تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کے دوران آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق 31 سالہ بابر اعظم نے کھلاڑیوں اور معاون اسٹاف کے لیے مقرر کردہ ضابطہ اخلاق کی شق 2.2 کی خلاف ورزی کی۔ واضح رہے کہ یہ شق میچ کے دوران کرکٹ ساز و سامان، کپڑوں، گراؤنڈ کے آلات یا فکسچر کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔
مزید پڑھیں: 2 سال بعد سینچری اسکور کرکے بابر اعظم نے مخالفین کو کیا پیغام دیا؟
واقعہ سری لنکا کے خلاف تیسرے ایک روزہ میچ کے دوران پاکستان کی اننگز کے 21ویں اوور میں پیش آیا، جب آؤٹ ہونے کے بعد بابر اعظم غصے میں پویلین لوٹتے ہوئے اپنا بیٹ اسٹمپس کو لگا بیٹھے۔
خلاف ورزی ثابت ہونے پر بابر اعظم کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی دے دیا گیا ہے، جو گزشتہ 24 ماہ میں ان کا پہلا ڈی میرٹ پوائنٹ ہے۔
آن فیلڈ امپائرز الیکس وارف اور رشید ریاض، تھرڈ امپائر شرف الدولہ ابن شاہد اور فورتھ امپائر فیصل آفریدی نے بابر اعظم پر الزام عائد کیا، جبکہ علی نقوی (ایمرٹس آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز) نے سزا تجویز کی۔
پاکستانی بیٹر نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے سزا قبول کرلی، جس کے بعد باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہ آئی۔
مزید پڑھیں: بابر اعظم کا ایک اور سنگ میل، پاکستان کے جانب سے سب سے زیادہ ون ڈے سینچریوں کا ریکارڈ برابر کردیا
آئی سی سی کے مطابق لیول 1 کی خلاف ورزی پر کم سے کم سرزنش اور زیادہ سے زیادہ 50 فیصد میچ فیس تک جرمانہ ہوسکتا ہے، جبکہ ایک یا 2 ڈی میرٹ پوائنٹس بھی دیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان نے سری لنکا کے خلاف سیریز میں وائٹ واش کیا جبکہ بابر اعظم نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 165 رنز اسکور کیے، جن میں ان کی ریکارڈ 20ویں ون ڈے سنچری بھی شامل تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔