پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی 3 ٹیمیں لاہور قلندرز، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اگلے 10 سال تک موجودہ مالکان کے پاس ہی رہیں گی۔

پی سی بی کے مطابق تینوں فرنچائزز نے اپنے تجدیدی معاہدوں پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ نئی ویلیوایشن رپورٹ کے مطابق ان ٹیموں کے مالکانہ حقوق برقرار رہیں گے۔

لاہور قلندرز کے مالک عاطف رانا نے کہا، ’10 سال پہلے میں نے لاہور کی فرنچائز اس لیے خریدی تھی کیونکہ لاہور پاکستان کا دل ہے۔ آج یہ سب سے قیمتی ٹیم اور نمبر ون فرنچائز بن چکی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے پی ایس ایل میں نئی ٹیموں کا فیصلہ کون اور کیسے کرے گا، پی سی بی نے واضح کردیا

پی سی بی یا لاہور قلندرز نے اس ٹیم کی موجودہ مالیت کا اعلان نہیں کیا، تاہم ’کرک انفو‘ کی رپورٹ کے مطابق لیگ کی سب سے زیادہ قیمت والی ٹیم اب لاہور قلندرز ہے، جبکہ آغاز میں یہ اعزاز کراچی کنگز کے پاس تھا۔

پی سی بی نے 14 نومبر کو قواعد و ضوابط کی پابندی کرنے والی فرنچائزز کو نئے آفر لیٹرز ارسال کیے، تاہم کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

ملتان سلطانز کا معاملہ اب بھی الجھا ہوا

ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے تصدیق کی ہے کہ پی سی بی نے ابھی تک ان سے فرنچائز تجدید کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ علی ترین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ ان کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور وہ ضرورت پڑنے پر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

پی سی بی اور علی ترین کے درمیان اختلافات اس وقت سامنے آئے جب لیگ نے علی ترین کو قانونی نوٹس بھیجا، جس میں کہا گیا کہ ان کے بیانات لیگ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

علی ترین نے اس نوٹس کو ویڈیو میں پھاڑتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پی ایس ایل کو قومی اثاثہ سمجھتے ہیں اور شفاف اور اعتماد پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملتان سلطانز کے علی ترین کا پی سی بی کو دوٹوک جواب، لیگل نوٹس پھاڑ دیا

علی ترین نے مزید کہا، ’اگر پی سی بی ہمیں لیٹر نہ بھیجے، جواب نہ دے یا میٹنگ میں نہ بلائے تو ہمارے پاس قانونی چارہ کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ اگر ہم خوش رکھے گئے ہوتے تو آج 15 ارب روپے کا نیا معاہدہ قومی خزانے میں جا چکا ہوتا۔ ‘

واضح رہے کہ پی ایس ایل کی موجودہ فرنچائز رائٹس دسمبر 2025 میں ختم ہو رہی ہیں۔ موجودہ مالکان دوبارہ بولی لگا سکتے ہیں، تاہم ملتان سلطانز کی جانب سے ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی کہ ان سے تجدید کے لیے رابطہ کیا گیا ہے یا نہیں۔

پی سی بی کا موقف ہے کہ نئے معاہدے صرف اہل فرنچائزز کے ساتھ کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ایس ایل کرکٹ کھیل ملتان سلطانز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل کرکٹ کھیل ملتان سلطانز لاہور قلندرز ملتان سلطانز پی ایس ایل علی ترین پی سی بی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا