Jasarat News:
2026-07-24@03:19:28 GMT

پاکستان کا مستقبل اور تاریخ کے عالمی اسباق

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251125-03-3
دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی منظرنامے میں پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی کے تجربات اور مستقبل کے تقاضے ایک دوسرے سے گتھم گتھا نظر آتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ انسان کو رہنمائی دیتی ہے، مگر صرف اْن اقوام کے لیے جو اس سے سبق حاصل کریں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی کیفیت کو دیکھتے ہوئے یہ سوال ناگزیر ہے کہ کیا ہم نے اپنے ماضی سے کچھ سیکھا؟ اور کیا ہم تاریخ کے عالمی اسباق کی روشنی میں اپنے مستقبل کی سمت درست کر سکتے ہیں؟ قیامِ پاکستان سے آج تک ہمارا قومی سفر نشیب و فراز، قربانیوں، اور داخلی و خارجی چیلنجز سے عبارت رہا ہے۔ ابتدا میں قیادت نے جغرافیائی پیچیدگیوں، وسائل کی کمی اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود قوم کو متحد رکھنے کی کوشش کی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی مفادات نے قومی وحدت کو متاثر کیا۔

آج 2025ء میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی کمزوری اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا ہے۔ شرحِ نمو غیر یقینی، زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ میں، اور برآمدی استعداد کمزور ہو چکی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار نے ہماری خودمختاری کو محدود کر دیا ہے۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زوال اْس وقت آتا ہے جب قوم اپنی سمت کھو دیتی ہے، اور عروج اْس وقت جب وہ داخلی اصلاحات کے ذریعے اپنے نظام کو از سرِ نو تشکیل دیتی ہے۔ دنیا آج یک قطبی نہیں بلکہ کثیرالقطبی (Multipolar) ہو چکی ہے۔ امریکا، چین، روس، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے نئے اتحادوں نے طاقت کے محور بدل دیے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کے لیے ’’غیر جانب داری‘‘ یا ’’توازن پر مبنی سفارت کاری‘‘ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چین ہمارا قریبی شراکت دار ہے، مگر اس کی سست ہوتی معیشت اور عالمی تجارتی دباؤ ’’سی پیک‘‘ منصوبے کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکا اور بھارت کا بڑھتا اتحاد خطے میں اسٹرٹیجک توازن کو بدل رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو محض ردِعمل کے بجائے فعال اور متوازن حکمت ِ عملی اپنانا ہوگی جہاں قومی مفاد، اقتصادی خودمختاری اور علاقائی استحکام تینوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ اپنی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کریں۔ ہمیں قرض پر انحصار کے بجائے پیداواری معیشت، برآمدی توسیع، زرعی جدیدیت، اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کو ترجیح دینا ہوگی۔

2025ء میں ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، اور گرین انرجی جیسے شعبے دنیا کی ترقی کا نیا محور ہیں۔ پاکستان اگر نوجوان افرادی قوت، فری لانسنگ، آئی ٹی ایکسپورٹ اور زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی منڈیوں میں داخل ہوتا ہے، تو نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ممکن ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی وسیع ہوں گے۔ تاریخ ہمیں جاپان، جنوبی کوریا اور سنگاپور کی مثالیں دیتی ہے، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود علم، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی سے ترقی کے نئے باب رقم کیے۔ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں کمی صرف وژن، شفافیت اور تسلسل کی ہے۔ کسی بھی ریاست کا پائیدار استحکام صرف خارجہ پالیسی سے ممکن نہیں۔ اندرونی یکجہتی، اداروں کے درمیان اعتماد، اور عوامی شرکت اْس کی بنیاد ہوتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی محاذ آرائی، ادارہ جاتی کشمکش اور بداعتمادی نے فیصلہ سازی کو سست کر دیا ہے۔ تاریخ کے سبق کے مطابق، ریاستیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب عوامی فلاح کو مرکزی حیثیت دی جائے، تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار کے مواقع مساوی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے دفاع میں نہیں بلکہ معیشت کی مضبوطی، نوجوانوں کی تعلیم، اور شہری مساوات میں مضمر ہے۔

دنیا کے 60 فی صد سے زیادہ ممالک نے اپنی ترقی کی بنیاد ٹیکنالوجی اور تعلیم پر رکھی۔ پاکستان کے نوجوان آج سب سے بڑی قوت ہیں اگر اْنہیں ہنر، جدید تعلیم، تحقیق اور عالمی رسائی فراہم کی جائے تو یہی نسل ملک کو نئی بلندیوں پر پہنچا سکتی ہے۔ تعلیم کا بجٹ بڑھانا، جامعات کو تحقیق سے جوڑنا، اور نجی و سرکاری سطح پر انوویشن کو فروغ دینا وہ قدم ہیں جو ہمیں مستقبل کی دوڑ میں شامل کر سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں امن، تجارت اور توانائی کے راستے کھولنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ افغانستان میں استحکام، ایران کے ساتھ تجارتی راہداری، اور وسطی ایشیا تک اقتصادی رابطہ ہمارے مستقبل کا کلیدی جزو ہو سکتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ علٰیحدگی اور مخاصمت سے کوئی ملک ترقی نہیں کرتا۔ برعکس، علاقائی شراکت داری، باہمی تجارت اور اعتماد کی فضا ہی حقیقی طاقت کی بنیاد ہے۔ پاکستان کو اپنی سفارت کاری میں یہ پہلو نمایاں رکھنا ہوگا۔

پالیسی سفارشات و سمت ِ عمل: 1۔ معاشی اصلاحات: برآمدات میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کی توسیع، اور سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کرنا۔ 2۔ تعلیم و ہنرمندی: جدید سائنسی و ٹیکنیکل تعلیم کو ترجیح دینا تاکہ نوجوان طبقہ عالمی مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ 3۔ توانائی و وسائل: قابل ِ تجدید توانائی (شمسی و ہوائی) کے منصوبوں پر سرمایہ کاری۔ 4۔ سفارتی توازن: چین، امریکا، خلیجی ممالک اور وسطی ایشیا کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا۔ 5۔ شفاف طرزِ حکمرانی: بدعنوانی کے خاتمے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے غیر سیاسی مگر مستحکم اقدامات۔ 6۔ میڈیا و فکری استحکام: قومی بیانیہ تحقیق، حقیقت اور مثبت سوچ پر مبنی ہونا چاہیے سنسنی پر نہیں۔

تاریخ نے ہمیں بارہا بتایا کہ زوال اْن قوموں کا مقدر بنتا ہے جو وقت کے اشارے کو نظرانداز کر دیں۔ پاکستان کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے اْن سے سیکھے، اپنی پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور عوامی اعتماد پیدا کرے۔ دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اب یہ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ ہم تاریخ کے تماشائی رہیں گے یا مستقبل کے معمار۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں پاکستان پاکستان کے تاریخ کے دیتی ہے کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف