لاہور قلندرز کے بعد مزید دو فرنچائزز کی پی ایس ایل معاہدے کی تجدید
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لاہور قلندرز کے بعد مزید دو فرنچائزز نے اپنے پی ایس ایل معاہدے کی تجدید کرلی۔
تفصیلات کے مطابق پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ای وائی مینا کی ویلیوایشن کے بعد پی ایس ایل کے ساتھ فرنچائز معاہدے کی 10 سال کے لیے تجدید کرلی ہے۔
پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ملکیت آئندہ دہائی میں بھی موجودہ مالکان کے پاس رہے گی۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے معاہدے کی تجدید پر اظہار مسرت کیا۔
انہوں نے کہا کہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کی قیادت میں زلمی پاکستان کی مقبول ترین فرنچائز بن گئی ہے۔ان کا وژن زلمی اور پی ایس ایل دونوں کے لیے مضبوط اساس ہے۔
چیئرمین پی سی بی کا مزید کہنا تھا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اونر ندیم عمر کی پی ایس ایل کے لیے خدمات قابل ستائش ہیں، ان کا اعتماد پی ایس ایل کی بڑھتی ساکھ کا ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ آئندہ سال پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں 6 کے بجائے 8 ٹیمیں حصہ لیں گی۔
مزید دو ٹیموں کے لیے پی سی بی کی جانب سے ٹینڈر جاری کردیا گیا ہے جس کا حتمی اعلان 6 جنوری 2026 کو ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پشاور زلمی پی ایس ایل معاہدے کی زلمی اور کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔