پی ٹی آئی والے دھاندلی کا الزام لگائیں گے، ان کو ضمنی الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی ہے:خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کے باہر اور یہاں بیٹھے ہوئے لوگ فوج کے بارے میں جس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں اس کا یہ ری ایکشن ہوا ہے۔ضمنی الیکشن میں سکشت کے بعد پی ٹی آئی والے عدالت میں جائیں، کیس اقوام میں متحدہ لے جائیں، عالمی عدالت میں لے جائیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ توقع تھی کہ پی ٹی آئی والے دھاندلی کا الزام لگائیں گے، ان کو ضمنی الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی ہے۔لیڈر آف اپوزیشن عمر ایوب قومی اسمبلی کا فرنیچر بھی توڑ کے گئے ہوئے ہیں، ساؤنڈ سسٹم بھی برباد کرگئے،اپنی حلقے میں وہ بڑی بھاری اکثریت سے ہارے ہیں، اس صوبے میں حکومت بھی پی ٹی آئی کی ہےجن جن سیٹوں سے یہ جیتے ہوئے تھے ان سیٹوں سے یہ بھاری اکثریت سے ہارے ہیں عدالت میں جائیں، کیس اقوام میں متحدہ لے جائیں، عالمی عدالت میں لے جائیں۔انہوں نے کہاکہ کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا، کوئی اس قسم کی بات نہیں ہوئی جس پراسس پر شک شبے کا اظہار ہوجس صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے اس صوبے میں وہ ہارے ہیں ظاہر ہوتا ہے سابقہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی فیور میں گڑ بڑ ہوئی تھی ظاہر ہو گیا ہے پی ٹی آئی کا الیکشن فراڈ تھا جہاں جہاں ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی تھی عوام نے اس زیادتی کو درست کردیا ہے پیپلز پارٹی ہماری حلیف ہے اور رہے گی ہم مل کے چلیں گے پی ٹی آئی کے باہر اور یہاں بیٹھے ہوئے لوگ فوج کے بارے میں جس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں اس کا یہ ری ایکشن ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: الیکشن میں خواجہ آصف عدالت میں پی ٹی آئی لے جائیں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔