حلقہ این اے 18: ایوب خان خاندان کے گڑھ میں پی ٹی آئی کی شکست، کتنا بڑا دھچکا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے حلقہ این اے 18 کے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار بابر نواز خان نے 163,996 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی ہے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ امیدوار، ہری پور کے ایوب خان خاندان سے تعلق رکھنے والی شہرناز عمر ایوب کو شکست دی۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق، گزشتہ اتوار کو این اے 18 ہری پور میں منعقدہ ضمنی انتخابات میں ن لیگ کے امیدوار بابر نواز خان 163,996 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔
یہ بھی پڑھیں:عام انتخابات کے مقابلے میں ضمنی انتخابات میں ن لیگ نے کتنے زائد ووٹ حاصل کیے؟
جبکہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرنازعمرایوب 120,220 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔
شکست سے دوچار شہرناز سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما عمر ایوب خان کی اہلیہ ہیں، یہ نشست 9 مئی کے کیسز میں عمر ایوب کی سزا کے باعث نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔
https://Twitter.
الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 18 ہری پور میں کل ووٹرز کی تعداد 753,944 ہے اور ضمنی الیکشن میں 317,342 افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
پی ٹی آئی کا دھاندلی کا الزامپاکستان تحریک انصاف نے ہری پور ضمنی الیکشن میں سنگین دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ راتوں رات نتائج میں مبینہ تبدیلی کی گئی۔
مرکزی سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہری پور الیکشن کا نتیجہ قوم کے چہرے پر طمانچہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کو بار بار بے وقعت کر کے عوام کو محکوم ثابت کیا جا رہا ہے، جبکہ وہ جھوٹ اور فریب کو مقدر بنانے کی سازش برداشت نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا جمہوریت کے خلاف سنگین جرم ہے۔
ضمنی نتائج میں شکست کتنا بڑا دھچکا؟اپوزیشن لیڈر عمر ایوب پی ٹی آئی کے احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کیسز میں سزا کے بعد نااہل ہوئے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کی نشست خالی قرار دے کر ضمنی الیکشن کرایا، پی ٹی آئی کے ایک رہنما کے مطابق عمر ایوب کا خاندان این اے 18 کو اپنا آبائی حلقہ سمجھتا ہے اور کسی دوسرے پارٹی امیدوار کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی نے عمر ایوب سے مشاورت کی تھی جس میں ان کی اہلیہ اور بھائی یوسف ایوب کے نام سامنے آئے تھے، عمر ایوب نے بھائی کے مقابلے میں اہلیہ کو ترجیح دی اور ٹکٹ انہیں دیا۔
مزید پڑھیں: ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، بلال چوہدری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روک دیا گیا
انہوں نے بتایا کہ ہزارہ ڈویژن کے رہنما چاہتے تھے کہ ٹکٹ کسی نوجوان رہنما کو دیا جائے لیکن عمر ایوب نے اس پر توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق دھاندلی اپنی جگہ، مگر ٹکٹ کی غلط تقسیم بھی شکست کی وجہ بنی۔ “
’اگر دیکھا جائے تو شکست پی ٹی آئی کی نہیں بلکہ موروثی سیاست کی ہوئی ہے، عمر ایوب کی ضد کی وجہ سے ہوئی ہے، ان کی اہلیہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔‘
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ اس شکست سے صوبائی حکومت پر سوالات اٹھیں گے۔ ’یہ بہت بڑی بدنامی ہے کہ صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود اپنی ہی نشست کھو دینا شرمندگی کی بات ہے۔‘
مزید پڑھیں: ضمنی انتخابات میں کامیابی، کیا ن لیگ اب پیپلز پارٹی کی محتاج نہیں رہی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دے رہی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اس کے لیے بدنامی ہے، صحافی عارف حیات کے مطابق صوبے میں حکومت کے باوجود دھاندلی کیسے ہو سکتی ہے، صوبائی حکومت کیا کر رہی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت ورکرز سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ ’شہرناز عمر ایوب محض عمر ایوب کی اہلیہ تھیں، پارٹی میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا، یہ خاندانی اور موروثی بنیادوں پر ٹکٹ دینے کا نتیجہ ہے۔‘
کیا پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں کمی آئی؟این اے 18 ہری پور کے ضمنی الیکشن کے نتائج دیکھیں تو صوبے میں حکومت کے باوجود پی ٹی آئی کے ووٹ بینک میں کمی نظر آتی ہے، عام انتخابات میں اسی حلقے سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار عمر ایوب خان 192,948 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ضمنی الیکشن میں ان کی اہلیہ 120,220 ووٹ ہی حاصل کر سکیں۔
دوسری جانب ن لیگ کے بابر نواز خان، جنہوں نے گزشتہ عام انتخابات میں 112,389 ووٹ لیے تھے، اور ضمنی الیکشن میں 163,996 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، یعنی ن لیگ کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب و خیبرپختونخوا کے ضمنی انتخابات، غیر حتمی نتائج میں ن لیگ کی مجموعی برتری
عارف حیات کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز فعال کام نہیں کر رہے، ضمنی الیکشن میں شکست عمر ایوب کے لیے سوال ہے کہ انہوں نے اپنے حلقے کے لیے کیا کیا ہے۔
’عمر ایوب کا پورا خاندان حکومت میں ہے ایک بھائی وزیر، دوسرا ایم پی اے، سوال یہ ہے کہ پورے ہری پور میں صرف ایوب خاندان ہی موجود ہے، پارٹی میں کوئی اور نہیں ہے کیا۔‘
ان کے مطابق پی ٹی آئی کو شکست کی وجوہات پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن لیڈر این اے-18 بابر نواز خان پی ٹی آئی جلاؤ گھیراؤ شہر ناز ضمنی انتخابات عام انتخابات عمر ایوب قومی اسمبلی ن لیگ ہری پور
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر این اے 18 بابر نواز خان پی ٹی ا ئی جلاؤ گھیراؤ ضمنی انتخابات عام انتخابات عمر ایوب قومی اسمبلی ن لیگ ہری پور ضمنی انتخابات میں ضمنی الیکشن میں بابر نواز خان عام انتخابات پی ٹی آئی کے ان کی اہلیہ کے باوجود ایوب خان عمر ایوب کے مطابق کا کہنا ہری پور کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔