Islam Times:
2026-07-24@07:05:17 GMT

جسٹس سوریہ کانت نے بھارت کے 53ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

جسٹس سوریہ کانت نے بھارت کے 53ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا

وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے، بہار کے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور پیگاسس اسپائی ویئر سمیت متعدد کیسز میں کئی تاریخی فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جسٹس سوریہ کانت نے آج بھارت کے 53ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا۔ وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے، بہار کے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور پیگاسس اسپائی ویئر سمیت متعدد کیسز میں کئی تاریخی فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے ہیں۔ صدر جموریہ مرمو نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں جسٹس کانت کو حلف دلایا۔ وہ جسٹس بی آر گوائی کی جگہ لیں گے، جنہوں نے اتوار کو عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اس سے قبل جسٹس کانت کو 30 اکتوبر کو اگلا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 15 ماہ تک اس عہدے پر رہیں گے۔ وہ 9 فروری 2027ء کو 65 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہوں گے۔ ان کی حلف برداری تقریب میں نائب صدر جموریہ سی پی رادھا کرشنن اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت سینیئر لیڈروں نے شرکت کی۔

10 فروری 1962ء کو ہریانہ کے حصار ضلع میں ایک متوسط ​​گھرانے میں پیدا ہوئے جسٹس کانت ایک چھوٹے شہر کے وکیل کی حیثیت سے ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی دفتر تک کا سفر طے کیا، جہاں وہ قومی اور آئینی اہمیت کے حامل کیسز کے متعدد فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے۔ انہیں کروکشیتر یونیورسٹی سے 2011ء میں قانون میں اپنی ماسٹر ڈگری میں "فرسٹ کلاس فرسٹ" سے پاس ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں کئی قابل ذکر فیصلے لکھنے والے جسٹس کانت کو پانچ اکتوبر 2018ء کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ سپریم کورٹی کے جج کے طور پر ان کا دور آرٹیکل 370، آزادی اظہار اور شہریت کے حقوق کی منسوخی کے فیصلوں سے عبارت ہے۔

وہ ریاستی اسمبلی سے منظور شدہ بلوں سے نمٹنے میں گورنر اور صدر کے اختیارات پر حالیہ صدارتی ریفرنس کا بھی حصہ رہے۔ وہ اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے نوآبادیاتی دور کے "غداری/بغاوت" قانون کو التواء میں رکھا تھا اور یہ ہدایت دی تھی کہ حکومت کی نظرثانی تک اس کے تحت کوئی نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ جسٹس کانت نے الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے بیچ بہار میں انتخابی فہرستوں کے مسودہ سے خارج 65 لاکھ ووٹروں کی تفصیلات کو منظر عام پر لانے کے لئے ہدایت بھی دی۔

جسٹس کانت اس بنچ کا حصہ تھے جس نے 2022ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سکیورٹی کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی اور کہا کہ اس طرح کے معاملات کے لئے "عدالتی طور پر تربیت یافتہ ذہن" کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دفاعی افواج کے لئے ون رینک ون پنشن اسکیم کو بھی برقرار رکھا، اسے آئینی طور پر درست قرار دیا اور مسلح افواج میں خواتین افسران کی مستقل کمیشن میں برابری کی درخواستوں کی سماعت جاری رکھی۔

جسٹس کانت سات ججوں کی اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے 1967ء کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا، جس سے ادارے کی اقلیتی حیثیت پر نظرثانی کا راستہ کھل گیا تھا۔ وہ اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے پیگاسس اسپائی ویئر کیس کی سماعت کی اور غیر قانونی نگرانی کے الزامات کی جانچ کے لئے سائبر ماہرین کا ایک پینل مقرر کرنے کے ساتھ یہ مشہور ریمارکس دیا کہ ریاست کو "قومی سلامتی کی آڑ میں مفت پاس" نہیں مل سکتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جسٹس کانت تھے جس نے چیف جسٹس حصہ رہے کا حصہ کے لئے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا