جسٹس سوریہ کانت نے بھارت کے 53ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے، بہار کے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور پیگاسس اسپائی ویئر سمیت متعدد کیسز میں کئی تاریخی فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جسٹس سوریہ کانت نے آج بھارت کے 53ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا۔ وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے، بہار کے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور پیگاسس اسپائی ویئر سمیت متعدد کیسز میں کئی تاریخی فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے ہیں۔ صدر جموریہ مرمو نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں جسٹس کانت کو حلف دلایا۔ وہ جسٹس بی آر گوائی کی جگہ لیں گے، جنہوں نے اتوار کو عدلیہ کے اعلیٰ ترین عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اس سے قبل جسٹس کانت کو 30 اکتوبر کو اگلا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 15 ماہ تک اس عہدے پر رہیں گے۔ وہ 9 فروری 2027ء کو 65 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہوں گے۔ ان کی حلف برداری تقریب میں نائب صدر جموریہ سی پی رادھا کرشنن اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت سینیئر لیڈروں نے شرکت کی۔
10 فروری 1962ء کو ہریانہ کے حصار ضلع میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے جسٹس کانت ایک چھوٹے شہر کے وکیل کی حیثیت سے ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی دفتر تک کا سفر طے کیا، جہاں وہ قومی اور آئینی اہمیت کے حامل کیسز کے متعدد فیصلوں اور احکامات کا حصہ رہے۔ انہیں کروکشیتر یونیورسٹی سے 2011ء میں قانون میں اپنی ماسٹر ڈگری میں "فرسٹ کلاس فرسٹ" سے پاس ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں کئی قابل ذکر فیصلے لکھنے والے جسٹس کانت کو پانچ اکتوبر 2018ء کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ سپریم کورٹی کے جج کے طور پر ان کا دور آرٹیکل 370، آزادی اظہار اور شہریت کے حقوق کی منسوخی کے فیصلوں سے عبارت ہے۔
وہ ریاستی اسمبلی سے منظور شدہ بلوں سے نمٹنے میں گورنر اور صدر کے اختیارات پر حالیہ صدارتی ریفرنس کا بھی حصہ رہے۔ وہ اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے نوآبادیاتی دور کے "غداری/بغاوت" قانون کو التواء میں رکھا تھا اور یہ ہدایت دی تھی کہ حکومت کی نظرثانی تک اس کے تحت کوئی نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ جسٹس کانت نے الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کے بیچ بہار میں انتخابی فہرستوں کے مسودہ سے خارج 65 لاکھ ووٹروں کی تفصیلات کو منظر عام پر لانے کے لئے ہدایت بھی دی۔
جسٹس کانت اس بنچ کا حصہ تھے جس نے 2022ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پنجاب کے دوران سکیورٹی کی خلاف ورزی کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اندو ملہوترا کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی اور کہا کہ اس طرح کے معاملات کے لئے "عدالتی طور پر تربیت یافتہ ذہن" کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دفاعی افواج کے لئے ون رینک ون پنشن اسکیم کو بھی برقرار رکھا، اسے آئینی طور پر درست قرار دیا اور مسلح افواج میں خواتین افسران کی مستقل کمیشن میں برابری کی درخواستوں کی سماعت جاری رکھی۔
جسٹس کانت سات ججوں کی اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے 1967ء کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تھا، جس سے ادارے کی اقلیتی حیثیت پر نظرثانی کا راستہ کھل گیا تھا۔ وہ اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے پیگاسس اسپائی ویئر کیس کی سماعت کی اور غیر قانونی نگرانی کے الزامات کی جانچ کے لئے سائبر ماہرین کا ایک پینل مقرر کرنے کے ساتھ یہ مشہور ریمارکس دیا کہ ریاست کو "قومی سلامتی کی آڑ میں مفت پاس" نہیں مل سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جسٹس کانت تھے جس نے چیف جسٹس حصہ رہے کا حصہ کے لئے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز