انوپم کھیر کا میز پر چڑھ کر انوکھا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
معروف بالی وڈ اداکار انوپم کھیر نے گوا میں جاری 56ویں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا میں اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے دلچسپ واقعات سے سامعین کو متاثر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہے اور ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدلا۔
انوپم کھیر نے سیشن کے دوران انکشاف کیا کہ 2002 کی کامیاب اسپورٹس کامیڈی بینڈ اِٹ لائک بیکہم کے باوجود، فلم کے پروڈیوسر دیپک نائر نے اگلی فلم کے لیے انہیں وہی 5000 پاؤنڈز معاوضہ کی پیشکش کی۔ اداکار کے مطابق اس پر انہوں نے شدید ردِعمل دیا اور پروڈیوسر کو اسی وقت بہتر معاوضہ دینے پر مجبور کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: منموہن سنگھ کی آواز میں فون کال، انوپم کھیر نے اپنے دوست کو کیسے بیوقوف بنایا؟
واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انوپم کھیر نے بتایا کہ ’میں نے بینڈ اِٹ لائک بیکہم صرف 5000 پاؤنڈز میں کی تھی۔ اس کا پروڈیوسر مجھے ایک اور فلم کے لیے لینا چاہتا تھا۔ وہ مجھ سے ہوٹل کی کافی شاپ میں ملا اور پوچھا کہ میں کتنے پیسے چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے اتنے ہی پیسے دے گا جتنے پچھلی بار دیے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا، تم نے اس فلم سے 100 ملین کمائے، تو مجھے اتنے ہی پیسے کیوں دے رہے ہو؟
انہوں نے بتایا کہ جب پروڈیوسر نے ہچکچاہٹ دکھائی تو میں نے میز پر کھڑے ہوکر سب کو اس گفتگو کے بارے میں بتایا۔ ان کے مطابق ’کافی شاپ صبح 10 بجے لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں فوراً میز پر کھڑا ہوگیا اور زور سے کہا، ہیلو دوستو! یہ ہیں دیپک نائر۔ انہوں نے مجھے بینڈ اِٹ لائک بیکہم کے لیے 5000 پاؤنڈز دیے تھے، لیکن اب نئی فلم کے لیے پوری رقم نہیں دینا چاہتے‘۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں گاندھی کی جگہ انوپم کھیر کی تصویر والے نوٹ برآمد، ویڈیو وائرل
اداکار نے مزید کہا کہ وہ مجھے بیٹھنے کو کہتے رہے، مگر میں لگا رہا کہ پیسے دے رہا ہے کی نہیں؟ آخرکار وہ مان گئے، مجھے بیٹھنے کو کہا، اور تب میں بیٹھ گیا۔ کیونکہ ہار ماننا کوئی آپشن نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انوپم کھیر بالی ووڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انوپم کھیر بالی ووڈ انہوں نے فلم کے کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔