شیخ حسینہ واجد نے عدالتی فیصلے کو سیاسی اور جانبدار قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا: بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اس فیصلے کو سیاسی، جانبدار اور مقدمے کو تماشا قرار دے دیا۔
شیخ حسینہ واجد نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف تمام الزامات بےبنیاد ہیں، میں گزشتہ سال جولائی اور اگست میں ہونے والی تمام ہلاکتوں پر افسوس کرتی ہوں، لیکن میں نے اور نہ ہی کسی اور سیاسی رہنما نے مظاہرین کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔
سابق وزیر اعظم بنگلا دیش کا کہنا تھاکہ مجھے نہ تو عدالت میں اپنا دفاع کرنے کا مناسب موقع ملا اور نہ ہی اپنی پسند کے وکلا کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیشی عدالت نے شیخ حسینہ کو انسانیت کیخلاف جرائم کا مجرم قرار دیدیا، سزائے موت کا حکم
شیخ حسینہ نے ٹربیونل کو مکمل طور پر جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینئر ججوں اور وکلا کو ہٹایا گیا، ان کو خوفزدہ کر کے خاموش کروایا گیا، ٹریبونل نے صرف عوامی لیگ کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات چلائے، جبکہ دیگر جماعتوں کو ہاتھ تک نہیں لگایا، شہریوں پر تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف کوئی تفتیش یا کارروائی نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھاکہ ڈاکٹر محمد یونس کی انتشار زدہ اور پسماندہ انتظامیہ کے تحت زندگی گزارنے والے کروڑوں بنگلادیشی عوام ان نام نہاد ٹرائلز کے ڈھونگ کو سمجھتے ہیں، یہ کارروائیاں انصاف کے لیے نہیں بلکہ عوامی لیگ کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں تاکہ موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے دنیا کی توجہ ہٹائی جاسکے۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ میں ایک شفاف اور منصفانہ عدالت میں اپنے الزامات کا سامنا کرنے سے نہیں ڈرتی، اسی لیے میں متعدد بار مطالبہ کر چکی ہوں کہ یہ مقدمہ ہیگ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت میں لے جایا جائے اور وہاں ایسا ٹریبونل ہو جو ثبوتوں کو صحیح طریقے سے اور ایمانداری کے ساتھ جانچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔