Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:43:00 GMT

2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈال دیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈال دیا گیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک)10 سال میں بجلی ٹیرف میں تقریباً 3 گنا اضافہ،غریب طبقے پرنان انرجی کاسٹ 60 فیصد تک بڑھا دی گئی۔معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کےشعبےکا کچا چٹھا کھول دیا،26 سو ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقے پر ڈال دیا گیا۔

توانائی شعبےمیں گزشتہ دس سال میں بجلی ٹیرف میں 3 گنا اضافہ ہوا،نان انرجی ٹیرف کاسب سے زیادہ 60 فیصدبوجھ غریب گھرانوں پرڈالاگیا،سرکاری معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نےچشم کشا رپورٹ جاری کر دی۔

رپورٹ کےمطابق بجلی کےشعبےمیں پیداواری صلاحیت سال 2025 میں 45 ہزارمیگا واٹ تک پہنچ چکی، گردشی قرضہ بھی 2 ہزار 600 ارب روپے سے تجاوزکرگیا،ادائیگی کا زیادہ بوجھ غریب گھرانے برداشت کر رہےہیں،100یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالےغریب صارفین کیلئےٹیرف 11.

72 سے بڑھکر 22.44 روپے ہو چکا،نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60 فیصد، امیروں پر صرف 30 فیصد رہ گیا۔

پائیڈ کےمطابق 10 ڈسکوز کی نا اہلی اورنقصانات نے توانائی شعبےکوقرضوں کےجال میں پھنسا دیا جن کے ایوریج ٹرانسمیشن اورڈسٹری بیوشن نقصانات 16 سے 17 فیصد ہیں،صارفین سےڈیبٹ سروسنگ سرچارج،ٹیرف ریسنلائزیشن سرچارج،فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافی بلزکی وصولی جاری کردی گئی،مڈل انکم والےصارفین 34.2 روپےفی یونٹ اورامیرطبقہ 46.5 روپےیونٹ بجلی بل ادا کررہا ہے،بجلی ٹیرف کا 35 فیصد تک غیر توانائی سرچارجزپرمشتمل ہے،لیکن غریب گھرانوں کے بلوں میں 37 فیصد حصہ سرکلر ڈیٹ سرچارجزکا ہے۔

رپورٹ کےمطابق بجلی کی لاگت میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ توانائی شعبے کے قرضوں کی لاگت بڑھ گئی ہےجس کی وجہ سے غریب ترین 40 فیصد گھرانے سرچارج کا 55 تا 60 فیصد ادا کرنے پرمجبورہیں۔45 فیصد قومی آمدن کے مالک امیر گھرانے صرف 15 سے 20 فیصد سرچارج ادا کرتے ہیں۔ پائیڈ نے فوری اصلاحات اور منصفانہ ٹیرف اسٹرکچر کی سفارش کی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم