وزیراعظم کا برآمدات پر ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج فوری ختم کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم جائزہ اجلاس میں ملکی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے بڑے فیصلے کیے گئے، جن میں سب سے نمایاں برآمدات پر عائد ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کو فوری طور پر ختم کرنا ہے۔
اہم اجلاس برآمدات میں اضافہ لانے کے لیے قائم کیے گئے ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات کے جائزے کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں وزیراعظم نے واضح ہدایات دیں کہ برآمدی شعبے پر کسی بھی غیر ضروری مالی بوجھ کو فوری طور پر ہٹا کر کاروباری ماحول کو سازگار بنایا جائے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے گزشتہ پانچ سال کے عالمی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت بھی جاری کی، تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ اس فنڈ کے وسائل کس حد تک شفاف انداز میں استعمال ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ اس فنڈ کا مقصد صرف اور صرف ملکی برآمدات کے فروغ، جدید تحقیق، ترقیاتی سرگرمیوں، برآمدی شعبے کی ورک فورس کی تربیت اور عالمی معیار کی سہولتوں کی فراہمی ہے، اس لیے اسے غیر متعلقہ منصوبوں پر خرچ کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
شہباز شریف نے مزید ہدایت کی کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے مؤثر اور شفاف استعمال کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے ایک موزوں چیئرمین کا انتخاب کیا جائے، جو حقیقی معنوں میں برآمدی سیکٹر کی ضروریات کو سمجھتا ہو اور عالمی معیار کے مطابق اصلاحات لا سکے۔
اسی طرح فنڈ کے تحت جاری تمام پروگرامز اور اسکیمز کا بھی غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ ہر شعبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ٹڈاپ (TDAP) کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لینے اور اس کی تشکیلِ نو کے لیے ہدایات جاری کیں، تاکہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مؤثر انداز میں تشہیر اور پروموشن کو بہتر بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی برآمدی اشیا کے فروغ اور مارکیٹنگ کی بنیادی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے اور اس مقصد کے لیے صنعت کاروں کو فوری طور پر تمام ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔
اجلاس میں ورکنگ گروپ نے اپنی سفارشات پیش کیں، جن پر وزیراعظم نے گروپ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ذمہ دار ادارے ان سفارشات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اہم اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، محمد اورنگزیب، جام کمال، ڈاکٹر مصدق ملک، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین ایس آئی ایف سی اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔