WE News:
2026-07-24@05:34:06 GMT

جیو پالیٹکس اور مذہبی عینک

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

ہم نے پچھلے کالم میں اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلم مذہبی ذہن کو جیوپولیٹکل ایشوز کو مذہبی عینک سے دیکھنے کی عادت ترک کرنی ہوگی۔ مختصراً شام کی پچھلے چند ماہ کی صورتحال کے تناظر میں اس کی وضاحت بھی کی تھی۔ مگر کچھ احباب کی جانب سے اصرار ہے کہ اس نکتے کو تفصیل سے کھولا جائے، وہ بھی مسلم تاریخ کے تناظر میں۔

یہ نکتہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اسے نظر انداز کرنے کی غلطی ٹھیٹھ مسلم مذہبی ذہن مسلسل کر رہا ہے۔ اور اس کے نتائج اس کے لیے شرمندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں لاتے۔ سو تفصیل کا تقاضا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ آئیے! مسلم تاریخ کے بالکل ابتدائی دور سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور  خلافت کا آغاز ہوتے ہی 2 چیلنجز کھڑے ہوگئے۔ ایک منکرین زکوۃ کی بغاوت اور دوسرا مسیلمہ کذاب کا فتنہ۔ یہ دونوں چیلنجز مسلم اسٹیٹ کے وجود کے لیے خطرے کے طور پر سامنے آئے۔ ان سے نمٹتے نمٹتے یہ بات طے ہوگئی تھی کہ اسٹیٹ کو مضبوط کرنا بہت ضروری ہے ورنہ محدود رقبے اور نہ ہونے کے برابر معیشت کے ساتھ یہ برقرار نہیں رہ پائے گی۔

یہاں سے شروع ہوا مسلمانوں کا جیو پولیٹکل سفر۔ یعنی بین الاقوامی سیاست کا آغاز۔ جیو پالیٹکس اپنے دامن میں 2 مزید اصطلاحات رکھتی ہے۔ جیو اکنامک، اور جیو اسٹریٹجک۔ جیو اکنامک عالمی تجارت ہے جبکہ جیو اسٹریٹجی عالمی دفاعی حکمت عملی۔

مسلم ریاست کا آغاز جس جزیرۃ العرب سے ہوا تھا اس کا تعارف ہی یہ تھا کہ نہ وہاں کوئی بڑا تجارتی شہر تھا اور نہ ہی اس خطے کی کوئی دفاعی اہمیت تھی۔اس علاقے کے تاجروں کو سامان خریدنے کے لیے شام جانا پڑتا تھا۔ وہاں سے مال لائے، ختم ہوا تو جاکر مزید لے آئے۔ جبکہ اسٹیٹ طاقت پکڑتی ہے بڑی تجارت سے۔ چنانچہ ضروری ہوگیا تھا کہ عالمی تجارت کے مراکز اور شاہراہوں کا کنٹرول حاصل کرکے بیلنس آف پاور اپنے حق میں شفٹ کیا جائے۔

مسلم ملٹری مہمات کا اولین مقصد یہی تھا۔ یہ مہمات لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کی غرض سے شروع نہ ہوئی تھیں، جس کی 2 دلیلیں ہیں۔

پہلی یہ کہ جب مسلم لشکر کسی ملک، علاقے یا شہر تک پہنچتا تو حملے سے قبل اسلامی دستور کے مطابق علاقے کی حکومت، اور لوگوں کے سامنے 3 آپشنز رکھی جاتیں۔ پہلی یہ کہ آپ اسلام قبول کر لیجیے اور علاقہ ہمارے حوالے کردیجیے۔ اگر اسلام قبول نہیں کرنا تو کوئی مسئلہ نہیں، ہماری طرف سے اس پر کوئی اصرار نہیں۔ لیکن علاقہ اس صورت میں بھی ہمارے حوالے کرنا ہوگا۔ آپ ٹیکس دیں گے، ہم آپ کی جان، مال، عزت و آبرو کا تحفظ کریں گے۔  اگر یہ آپشن بھی قبول نہیں تو پھر ہم علاقہ تو بذریعہ جنگ لیں گے، لیکن آپ سے کلمہ ہم تلوار کے زور پر نہیں پڑھوائیں گے۔ تلوار فقط علاقے کے حصول کے لیے استعمال ہوگی۔

یہ 3 آپشنز کیا بتاتے ہیں؟ یہ کہ اہل علاقہ یا شہر کا کلمہ نہ پڑھنا قابل قبول تھا مگر علاقہ حوالے نہ کرنا کسی صورت قبول نہ تھا۔ علاقہ اگر جنگ کے بغیر نہ دیا جاتا تو پھر اس کے حصول کے لیے جنگ لڑی جانی تھی۔ وہ جنگ جس میں جان دی بھی جاتی اور لی بھی جاتی۔  یعنی مقامی شہری کا غیر مسلم رہنا قبول تھا مگر شہر یا علاقہ اس کے تصرف میں چھوڑنا قبول نہ تھا۔ اب یہ آپ ہی غور کر لیجیے کہ اصرار کلمے پر تھا یا جغرافیے اور وسائل کے حصول کے حصول پر؟

دوسری دلیل کی جانب آئیے۔ مسلم لشکر جزیرۃ العرب سے نکلا تو 2 حصوں میں بٹ گیا۔ ایک عراق کی جانب گیا جس کا کچھ حصہ فارس کے کنٹرول میں تھا، دوسرا شام کی جانب گیا جہاں رومن ایمپائر بیٹھی تھی۔ وہ ایک ہی وقت میں اپنے زمانے کی دونوں سپر طاقتوں سے جا بھڑے۔  یعنی 2 فرنٹ وار اور ہر فرنٹ پر ایک مستقل سپر پاور کا سامنا۔ یہ وہ چیز ہے جس سے آج کی انتہائی جدید سپر طاقتیں بھی بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کیونکہ اس کے نتیجے میں شکست یقینی مانی جاتی ہے۔  لیکن آپ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کا کارنامہ دیکھیے۔

اگست 636 ء میں یرموک کی جنگ میں رومن ایمپائر شکست سے دوچار ہوتی ہے، اور اسی سال نومبر میں قادسیہ کی جنگ میں فارس کو ایسی تاریخ ساز ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے کہ رستم مارا جاتا ہے۔

آگے کی تاریخ میں ایک لشکر چلتا ہوا سمرقند تک آجاتا ہے اور دوسرا افریقہ پہنچ جاتا ہے۔ علاقے، شہر اور ملک قبضہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک صدی بیت جاتی  ہے مگر کوئی بھی مسلم لشکر براعظم یورپ کا رخ نہیں کرتا۔  711ء میں جاکر سپین کا رخ کیا جاتا ہے تو وہ بھی تب جب اسپین میں بغاوت کی صورتحال ہوتی ہے اور ایک گروہ مسلمانوں کی مدد طلب کر لیتا ہے۔ تب بھی مسلمان صرف اسپین  اور جنوبی فرانس کے کچھ حصے تک رہتے ہیں۔ پورے براعظم کو نہیں لیا جاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آنے والے زمانوں میں جب منگول اٹھتے ہیں تو وہ بھی یورپ میں بس ہنگری تک جاکر واپس پلٹ جاتے ہیں۔ جبکہ روس اور چین سے لے کر مصر کی مضافات تک سارا علاقہ تہ وبالا کردیتے ہیں مگر براعظم یورپ کو وہ بھی نظرانداز کردیتے ہیں۔

منگول تو چلیے کوئی مذہبی یا نظریاتی ایجنڈہ نہیں رکھتے تھے لیکن مسلمانوں نے یورپ کو کیوں نظر انداز کیا؟ یہ سوال یوں اہم ہے کہ اگر مسلم ملٹری مہمات کا مقصد اسلام کی دعوت پہنچانا تھا تو گوروں کا پورا براعظم کیوں نظر انداز کیا گیا؟ وہ بھی تو انسان تھے، ان تک اسلام کی روشنی لے جانا غیر ضروری کیوں سمجھا گیا؟ اب یہ وہ مقام ہے جسے مسلم مذہبی ذہن سمجھ جائے تو اس کی ساری الجھنیں بھی دور ہوجائیں اور یہ ٹی ٹی پی یا القاعدہ ٹائپ کے پلاسٹکی صلاح الدین ایوبیوں کے ٹرکوں کی بتی کے پیچھے دوڑتے دوڑتے ہر بار کسی عالمی طاقت کے سہولت کار بننے سے بھی بچے رہیں۔

سمجھنے کا نکتہ یہ ہے مسلم ملٹری مہمات کا مقصد دعوت اسلام سے بھی زیادہ اہم تر تھا۔ اور وہ مقصد تھا ایسی طاقتور مسلم سلطنت جسے دنیا کی کوئی طاقت چیلنج نہ کرسکے اور مسلمان اس میں جان، مال، عزت اور عقیدے کے تحفظ کے ساتھ رہ سکیں۔ خلفائے راشدین نے ہجرت سے قبل والا مکی دور دیکھ رکھا تھا جب ان کے پاس کوئی اسٹیٹ نہ تھی۔ یوں انہیں اپنے ہی گھروں سے ہجرت پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ سو وہ اسٹیٹ اور اس کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔  ریاست مدینہ کے قیام اور فتح مکہ کے ساتھ ابتدائی درجے کی اسٹیٹ وجود میں آگئی تھی۔ اب اسے محفوظ کرنے کا چیلنج درپیش تھا۔ اور محفوظ کرنے کی راہ آج بھی دنیا بھر کی یونی ورسٹیز میں یہی پڑھائی جاتی ہے کہ بیلنس آف پاور آپ کے حق میں ہونا چاہیے۔ جس کے لیے دنیا کے تجارتی راستوں، اہم تجارتی مراکز، اور اسٹریٹجک مقامات پر آپ کا کنٹرول ضروری ہے۔

ہم آج یہ کہتے ہیں یا نہیں کہ امریکا فلاں ملک پر اس لیے قبضہ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں موجود تیل اور دیگر وسائل کا کنٹرول حاصل کرسکے؟ دنیا بھر میں اس کے 900 سے زائد ملٹری بیسز کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ تمام بیسز اسٹرٹیجک لوکیشنز پر قائم ہیں۔ امریکا سے قبل یہی کچھ برطانیہ نے کیا۔ اب ذرا ایک دلچسپ نکتہ دیکھیے۔ برطانوی دور میں دنیا کی تجارت سمندری راستوں کی جانب شفٹ ہونا شروع ہوگئی تھی۔ مگر زمینی راستے اب بھی فعال تھے۔ جب امریکی دور آیا اور نہر سویز بنی تو اب مال بردار بحری جہاز بھی وہ تھے جو لاکھوں ٹن مال سپلائی کرتے تھے۔ یوں ساری دنیا کی تجارت لگ بھگ مکمل طور پر ہی سمندری راستوں سے ہونے لگی۔ سو امریکا نے اسی حساب سے نیول پاور بنائی تاکہ سمندروں پر اس کا راج رہے۔ اب آکر چائنیز نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے  عالمی تجارت کے ایک بڑے حصے کو واپس خشکی کے راستوں کی جانب منتقل کرنا شروع کیا ہے۔ اور اس کے لئے وہ ریلوے کو استعمال کرنے جا رہا ہے۔ یعنی نئے تجارتی راستے اور ان کا مکمل کنٹرول چین کے پیش نظر ہے۔

سو مطلب یہ ہوا کہ آج کی سپر طاقتیں وہی کر رہی ہیں جو اپنے سنہرے دور میں ہم نے کیا تھا۔  مسلم سلطنت کو ایک بڑی طاقت بنا بھی لیا تھا اور منوا بھی لیا تھا۔ ہر اہم عالمی تجارتی مرکز،  تمام تجارتی راستے اور اسٹریٹجک مقامات مسلمانوں کے کنٹرول میں آ چکے تھے۔ وہ اس یورپ کی طرف کیوں جاتے جہاں غربت اپنی بدترین شکل میں تھی؟ ایک بھی تجارتی یا اسٹریٹجک اہمیت کا شہر یا علاقہ وہاں نہ تھا۔ اوپر سے زمین بھی ان کی دلدلی۔ سو صنعت چھوڑیے کوئی قابل ذکر زراعت بھی وہاں نہ تھی۔ مسلمان وہاں جاتے تو سارا بجٹ گورے مفت خوروں کو پالنے پر خرچ ہوتا۔ سو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ  دعوت اسلام داعی اور عالم کا کام ہے۔ لشکر دعوت اسلام دینے نہیں بلکہ جیو اکنامک اور جیو اسٹریٹیجک اہداف کے حصول کے لیے جاتے ہیں۔ وہ یورپ میں ہوتے تو کوئی شک نہیں کہ مسلم لشکر وہاں بھی جاتے۔

ایک عجیب اتفاق دیکھیے، مسلمان اس جزیرۃ العرب سے اٹھے تھے جسے اسلام سے قبل سب نے نظر انداز کر رکھا تھا۔ قبائلی معاشرہ تھا کوئی باضابطہ ملک نہ تھا۔ نہ تو اس کی کوئی تجارتی اہمیت تھی اور نہ ہی اسٹریٹجک۔ سو کوئی اسے فتح کرنے بھی نہ آتا۔ مسلم دور میں یہی صورتحال یورپ کی تھی۔ جاگیر دار معاشرہ تھا۔ کوئی تجارتی اہمیت اور نہ ہی اسٹریٹجک۔ نتیجہ یہ کہ مسلمانوں اور منگولوں دونوں نے نظر انداز کیا۔ لیکن جزیرۃ العرب کے فقیروں کی طرح یورپ کے غریب غربا نے بھی ایسی اٹھان دکھائی کہ تجارت اور طاقت کے سارے مراکز فتح کرکے اپنا کنٹرول قائم کرلیا۔  یہی مسلم زوال لے کر آئے۔ اور آج کی تاریخ میں  مسلمانوں کی طرح انہیں بھی زوال کا سامنا ہے جو ہر عروج کا مقدر ہے۔

خلاصہ یہ کہ آج کے مسلم مذہبی ذہن کو اپنی ہی تاریخ سے سیکھنا ہوگا مگر اس کام کے لیے اسے جیو پولیٹکل، جیو اکنامک اور جیو اسٹریٹجک عینکیں استعمال کرنی ہوں گی۔ یعنی جب اسے اس سوال کا سامنا ہو کہ کیا مسلمانوں کا دور عروج واپس آنے کا امکان ہے؟ تو اس سوال کا جواب مذکورہ 3 عینکوں سے مسلم دنیا کے جائزے سے ملے گا۔ مذہب کی عینک آپ کو لاحاصل قسم کی خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔ وہ خوش فہمی جس میں ذہن کا انداز فکر یہ بن جاتا ہے ’اللہ کے لیے کوئی مشکل تھوڑی ہے، وہ چاہے تو کل سے ہی مسلم دور پھر سے آسکتا ہے۔‘ اور یہ احمق ذہن یہ نہیں سوچ پاتا کہ اللہ اگر اس طرح کرتا تو خلفاء راشدین کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جنگوں میں کیوں قربان کروانے پڑتے؟ اللہ کے رسول ﷺ کے بعد تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ انہی پر سب سے زیادہ مہربان تھے۔ انہیں تو ایک صدی تک آگ و خون کے دریاؤں سے گزر کر عروج حاصل کرنا پڑا تھا۔  تو آپ کو بیٹھے بیٹھے اللہ جی کس خوشی میں عروج دیں گے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جزیرۃ العرب عالمی تجارت جیو اکنامک کے حصول کے کی جانب جاتا ہے کے ساتھ قبول نہ کے لیے نہ تھا وہ بھی اور نہ اور اس

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ