ن لیگ کی ضمنی انتخابات میں کامیابی، مریم نواز کی کارکردگی وجہ بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
ن لیگ نے قومی اسمبلی کی تمام 6 نشستیں اپنے نام کر لیں جبکہ صوبائی اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستیں بھی ن لیگ کے حصے میں آئیں۔ پیپلز پارٹی صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل کر سکی۔
یہ بھی پڑھیں:ضمنی انتخابات میں کامیابی، کیا ن لیگ اب پیپلز پارٹی کی محتاج نہیں رہی؟
پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کے 229 ارکان تھے، جبکہ ضمنی الیکشن میں مزید 6 نشستیں جیتنے کے بعد ن لیگ کی تعداد 235 ہوگئی ہے۔ق لیگ کے 11، استحکام پاکستان پارٹی کے 7، مسلم لیگ ضیا کے ایک جبکہ پیپلز پارٹی کی ایک نشست جیتنے کے بعد ان کی تعداد پنجاب اسمبلی میں 17 ہو گئی ہے۔
قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے تمام 6 خالی نشستیں جیت لی ہیں۔ اب پارٹی ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔
اس وقت مسلم لیگ (ن) کے پاس 126 نشستیں ہیں۔ 6 نشستیں جیتنے سے یہ تعداد 132 ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ن لیگ کو ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5، استحکام پاکستان پارٹی کے 4، مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن، اور 4 آزاد ارکان کی حمایت پہلے سے حاصل ہے۔
پنجاب میں ن لیگ کی شاندار کامیابی کو مریم نواز کی عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور ریلیف پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ الیکٹرک بسیں، سستی روٹی، صحت کارڈ، صاف ستھرا پنجاب، سڑکوں کی بحالی اور دیگر پروگراموں کی بدولت ن لیگ کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کے مطابق مریم نواز کی خدمت کی سیاست نے شیر کو دوبارہ جیت کا نشان بنا دیا ہے۔ لوگ خدمت کو ووٹ دیتے ہیں، نفرت اور انتشار کی سیاست کو مسترد کر چکے ہیں۔ آج عوام باشعور ہیں، کھوکھلی تقریروں سے نہیں بہکتے۔
کیا مریم نواز کی کارکردگی بھی ن لیگ کی جیت کی وجہ بنی؟سینیئر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی اہم ہے، لیکن اصل وجہ پی ٹی آئی کی دفاعی پوزیشن اور بائیکاٹ پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود میدان چھوڑ دیا۔ لاہور میں جہاں بائیکاٹ نہیں کیا، وہاں بھی لیڈر شپ اور ووٹرز میدان میں نہ آ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:عام انتخابات کے مقابلے میں ضمنی انتخابات میں ن لیگ نے کتنے زائد ووٹ حاصل کیے؟
ن لیگ کے کارکن متحرک تھے، مریم نواز کی کارکردگی بھی ساتھ تھی، جس سے حکومت کو فائدہ ہوا ہے۔ لگتا ہے کہ پنجاب ن لیگ نے واپس لے لیا ہے، پی ٹی آئی کو دوبارہ کھڑا ہونے میں کافی وقت لگے گا۔‘‘
سینیئر تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ کم رہا ہے۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ جس کی حکومت ہوتی ہے، وہ جیت جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے 3-4 سال ن لیگ کی حکومت رہے گی، اس لیے اپنے کام کرانے کے لیے حکومتی امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں۔
مریم نواز کی کارکردگی واقعی اچھی ہے، عوامی ریلیف پروگرامز، الیکٹرک بسیں، صاف ستھرا پنجاب جیسے اقدامات عوام کو پسند آ رہے ہیں۔
اس ضمنی الیکشن میں اگرچہ پاکستان تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیے رکھا، لیکن ان کے حمایت یافتہ امیدوار میدان میں تھے، اس کے باوجود پنجاب میں ن لیگ کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا اتفاق ہے کہ یہ نتائج ن لیگ کی سیاسی بحالی اور مریم نواز کی قیادت کی مقبولیت کا واضح ثبوت ہیں۔ اب پنجاب ایک بار پھر ن لیگ کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز کی کارکردگی ضمنی انتخابات میں میں ن لیگ مسلم لیگ ن لیگ کی ن لیگ کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :