کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر نیت صاف ہوتی تو الیکشن کمیشن آف انڈیا 30 دنوں کی مختصر وقت میں کام کرنے کے بجائے مناسب وقت دیکر شفافیت اور جوابدہی پر توجہ مرکوز کرتا۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) عمل کے خلاف ایک بار پھر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر پورے ملک میں افراتفری مچی ہوئی ہے، یہ کوئی اصلاح نہیں ہے بلکہ مسلط کیا گیا ظلم ہے۔ راہل گاندھی نے بھارت کی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں جاری "ایس آئی آر" عمل کے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایس آئی آر کے نام پر پورے ملک میں افراتفری مچا رکھی ہے، نتیجتاً 3 ہفتوں میں 16 بی ایل او کی جان چلی گئی، ہارٹ اٹیک، تناؤ اور خودکشی۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کوئی اصلاح نہیں بلکہ مسلط کیا گیا ظلم ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایسا سسٹم بنایا ہے جس میں شہریوں کو خود کو تلاش کرنے کے لئے 22 سال پرانی ووٹر لسٹ کے ہزاروں صفحات پلٹنے پڑیں، مقصد صاف ہے، حقیقی ووٹرز تھک ہار جائے اور ووٹ چوری بغیر روک ٹوک کے جاری رہے۔ کانگریس لیڈر کا مزید کہنا ہے کہ بھارت دنیا کے لئے جدید ترین سافٹ ویئر بناتا ہے، لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا آج بھی کاغذات کی ڈھیر اکٹھے کرنے پر بضد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیت صاف ہوتی تو فہرست ڈیجیٹل، تلاش کے قابل اور مشین کے ذریعہ پڑھنے کے قابل ہوتی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اگر نیت صاف ہوتی تو الیکشن کمیشن آف انڈیا 30 دنوں کی مختصر وقت میں کام کرنے کے بجائے مناسب وقت دے کر شفافیت اور جوابدہی پر توجہ مرکوز کرتا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ایس آئی آر ایک سوچی سمجھی چال ہے، جہاں شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور بی ایل اوز کی غیر ضروری دباؤ سے ہونے والی اموات کو "ضمنی نقصان" سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناکامی نہیں سازش ہے، اقتدار کی حفاظت میں جمہوریت کی قربانی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کہ ایس آئی آر نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن