اجلاس میں بتایا گیا کہ چار ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جلد ہی مزید گیارہ ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ فوٹو: پی آئی ڈی 

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کے امور پر اجلاس میں شرکاء کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ریلوے کی مین لائن ون کراچی کوٹری سیکشن اور مین لائن تھری کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ تہران، استبول ٹرین سروس کا جلد آغاز ہوگا، قازقستان، ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریل منصوبے سے متعلق بھی ابتدائی کام ہو رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ریلویز کے پراپرٹی اور زمین کے معاملات پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ماڈل اختیار کرنے کی ہدایت دی۔

شرکاء کو مزید بتایا گیا کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اسٹیشن پر مفت وائی فائی فراہم کی جا چکی ہے، مزید 48 ریلوے اسٹیشنوں پر31 دسمبر تک مفت وائی فائی فراہم کیا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چار ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جلد ہی مزید گیارہ ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ٹرینوں کو آؤٹ سورس کیا جا بتایا گیا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری