شام 5 بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔ بسطامی روڈ، نواں کوٹ، پکی ٹھٹھی، گلشن راوی، سوڈیوال، ڈھولنوال میں پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ سبزہ زار، بابو صابو، شیرا کوٹ، باغ گل بیگم اور گردونواح کے علاقے بھی شامل ہیں۔ لاہور کی 29 یونین کونسلز میں 334 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔ این اے 129 میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ انتخابی عمل کی نگرانی کیلئے سیکڑوں کیمروں کی تنصیب کی گئی ہے۔ لاہور کے حلقہ این اے 129 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ سیاستدانوں کی تقدیر کا فیصلہ آج ووٹ کرے گا۔ تبدیلی کا مرکز یا روایت کی پاسداری ؟ کس کی سیاست کتنی مضبوط  ہے، عوام ووٹ سے اپنا فیصلہ کریں گے۔ (ن) لیگ کے امیدوار حافظ میاں نعمان اور پی ٹی آئی کے ارسلان احمد میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔ بجاش خان نیازی سمیت دیگر آزاد امیدوار بھی جیت کیلئے پُراُمید ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کیلئے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، شہر میں 132 پاکٹس اور 322 ناکے قائم ہیں، 3 ایس پیز، 6 ایس ڈی پی اوز اور 24 ایس ایچ اوز نگرانی کر رہے ہیں، ویمن پولنگ سٹیشنز پر لیڈی کانسٹیبلان بھی ڈیوٹی دے رہی ہیں۔

شام 5 بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔ بسطامی روڈ، نواں کوٹ، پکی ٹھٹھی، گلشن راوی، سوڈیوال، ڈھولنوال میں پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ سبزہ زار، بابو صابو، شیرا کوٹ، باغ گل بیگم اور گردونواح کے علاقے بھی شامل ہیں۔ لاہور کی 29 یونین کونسلز میں 334 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔ این اے 129 میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ انتخابی عمل کی نگرانی کیلئے سیکڑوں کیمروں کی تنصیب کی گئی ہے۔ صوبائی اور محکمہ داخلہ کے کنٹرول روم سے بھی نگرانی کا عمل جاری ہے۔ این اے 129 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 58 ہزار 364 ہے۔ 2 لاکھ 89 ہزار 339 مرد اور 2 لاکھ 69 ہزار 25 خواتین ہیں۔ این اے 129 کی نشست میاں اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قائم کئے گئے ہیں اے 129 میں

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن