بھارت میں تعینات بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ریاض حامداللہ نے 24 نومبر 2025 کو افواجِ بنگلہ دیش کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں 1971 کی جنگِ آزادی کے ہیروز کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے آزادی کے لیے جانیں قربان کرنے والے سپاہیوں، مکتی باہنی، بہادر خواتین اور بھارت کی جانب سے فراہم کی گئی حمایت کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔

ہائی کمشنر نے کہا کہ بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات ’گہرے اور کئی سطحوں پر استوار ہیں‘، اور مشکل وقتوں میں بھارت کی حمایت نے دوطرفہ اعتماد کے فریم ورک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

At ????????ARMED FORCES DAY in #India, shared #Bangladesh perspectives…@MEAIndia pic.

twitter.com/VLe1eV2Ghz

— Riaz Hamidullah (@hamidullah_riaz) November 24, 2025

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیش پائیدار دوستی اور موثر شراکت داری کے راستے پر گامزن رہنا چاہتا ہے، تاکہ دونوں ممالک نہ صرف مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں بلکہ نئے مواقع سے بھی فائدہ اٹھا سکیں۔

ریاض حامداللہ نے کہا کہ بنگلہ دیش کی مسلح افواج نہ صرف ملک کی سول انتظامیہ کی معاونت کرتی ہیں بلکہ عالمی امن کے قیام کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

دہلی میں بنگلہ دیشی ہائی کمشنر ریاض حامداللہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ریاض حامداللہ ہائی کمشنر بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا