کینیڈا کا خالصتان ریفرنڈم‘ مشرقی پنجاب کی بھارت سے آزادی کیلیے لمبی قطاریں
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251125-08-25
اوٹاوا (مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم کے تازہ ترین مرحلے میں کینیڈا کے 4 صوبوں سے تعلق رکھنے والے 53 ہزار سے زاید کینیڈین سکھوں نے ووٹ ڈالے، ریکارڈ ٹرن آؤٹ مشرقی پنجاب کی بھارت سے آزادی کی حمایت کرتا ہے۔یہ غیر سرکاری عالمی ووٹنگ مہم علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس (SFJ) کی جانب سے منظم کی گئی تھی، اونٹاریو، البرٹا، برٹش کولمبیا اور کیوبیک کے سکھ ووٹرز میگ نیب کمیونٹی سینٹر میں جمع ہوئے، جہاں منفی درجہ حرارت، برف باری اور تیز ہواؤں کے باوجود 2 کلومیٹر طویل قطاریں لگی رہیں، سہ پہر 3 بجے پولنگ کے سرکاری اختتام پر بھی ہزاروں لوگ لائن میں موجود تھے، جس پر حکام نے تمام ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کے لیے عمل کو جاری رکھا۔سکھس فار جسٹس نے اسے کینیڈا کا خالصتان پر ریفرنڈم‘ قرار دیا اور اسے کینیڈا کی حکومت کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے طریقہ کار پر عوامی ردِعمل کے طور پر پیش کیا، گروپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی حکومت نے اسی روز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ جی20 تجارتی مذاکرات کیوں کیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسیاں بھارتی سرکاری اہلکاروں پر قتل کی سازشوں، غیر ملکی مداخلت اور کینیڈین شہریوں کو نشانہ بنانے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگا چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔