سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کا کیس، عدالت کے اختیار سماعت پر اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت میں سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے اختیار سماعت پر اعتراض اٹھا دیا گیا.
تفصیلات کے مطابق دوران سماعت ملتان کی انجینئرنگ یونیورسٹی کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف کورٹ آف اپیل نہیں ہے.
وفاقی آئینی عدالت میں سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی سے متعلق اہم کیس کی سماعت کی گئی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز میں اسلامک یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ریکٹر کو عبوری طور پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن بنایا گیا تھا لیکن چیئرمین ہائر ایجوکیشن اب ریٹائر ہو چکے ہیں اور اس وقت یونیورسٹی میں مستقل ریکٹر تعینات نہیں۔
انہوں نے موٴقف اپنایا کہ ریکٹر کی تعیناتی صدرِ پاکستان بطور چانسلر کرتے ہیں، جبکہ عدالت کو انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئینی عدالت کے اختیارِ سماعت پر اعتراض کی بنیاد کیا ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ انٹراکورٹ اپیلیں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت دائر کی گئیں، آرٹیکل 184/3 27 ترمیم میں ختم کر دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران ملتان انجینئرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے بھی عدالت کے اختیارِ سماعت پر اعتراض اٹھایا گیا۔ وائس چانسلر کے وکیل عبدالرحمن لودھی نے کہا کہ مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے، جس کے خلاف انہوں نے انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی جو آئینی بنچ میں مقرر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد کیس اب وفاقی آئینی عدالت میں لگا ہے، مگر عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ”کورٹ آف اپیل“ نہیں ہے۔ عبدالرحمن لودھی نے مزید کہا کہ آرٹیکل 184کے تحت فیصلوں کی اپیلیں وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہوئی ہیں، لیکن آرٹیکل 175ای کے تحت سپریم کورٹ میں کوئی کیس زیر التوا نہیں۔
اس موقع پر جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیے کہ ترمیم کے بعد آرٹیکل 184 ختم کردیا گیا ہے جبکہ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اسی ترمیم میں ازخود نوٹس کا اختیار بھی ختم کردیا گیا ہے۔
بینچ نے استفسار کیا کہ کیا واقعی وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل سن سکتی ہے؟ اور وکیل سے پوچھا کہ وہ الگ اپیل کیوں دائر نہیں کرتے؟ جس پر عبدالرحمن لودھی نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں متفرق درخواست دائر کریں گے۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائس چانسلرز کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں عدالت کے اختیار یونیورسٹی کے سپریم کورٹ نے کہا کہ کی سماعت وکیل نے کیس کی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔