ججز ٹرانسفر کیس: ہائیکورٹ ججز نے وفاقی آئینی عدالت میں سماعت چیلنج کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ججز ٹرانسفر کیس نے ایک بار پھر اہم موڑ اختیار کرلیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ججز نے انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کو وفاقی آئینی عدالت میں منتقل کیے جانے کے فیصلے کو باضابطہ طور پر چیلنج کردیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پانچ ہائیکورٹ ججز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ انٹرا کورٹ اپیل کو سپریم کورٹ واپس بھیجا جانا چاہیے، کیونکہ اسے 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت میں منتقل کیا گیا ہے، جو آئین کے بنیادی ڈھانچے اور اصولوں کے منافی ہے۔
درخواست گزار ججز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کا آئین 1973 ملک کے تین بنیادی ستون مقننہ، ایگزیکٹو اور عدلیہ کی واضح حدود، دائرہ اختیار اور اختیارات کا تعین کرتا ہے۔ کسی بھی آئینی ترمیم کا استعمال عدلیہ کے اختیارات کو تبدیل کرنے یا اس کے ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔
ججز نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے مختلف فیصلے اختیارات کی تقسيم اور ادارہ جاتی توازن پر واضح اور تاریخی رہنمائی فراہم کرتے ہیں، اس لیے انٹرا کورٹ اپیل کو وفاقی آئینی عدالت میں منتقل کرنا آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم نہ صرف اختیارات کی تقسیم کے بنیادی اصولوں سے ٹکراتی ہے بلکہ عدلیہ کی خود مختاری کو بھی متاثر کرتی ہے، جس کی بنیاد پر انٹرا کورٹ اپیل کو دوبارہ سپریم کورٹ کے اختیار میں لایا جانا ضروری ہے۔ پانچوں ججز اس بات کے خواہاں ہیں کہ اپیل وہیں سنی جائے، جہاں اسے آئین کے تحت سنا جانا چاہیے تھا۔
دوسری جانب وفاقی آئینی عدالت نے اسی انٹرا کورٹ اپیل کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے باضابطہ کازلسٹ بھی جاری کردی ہے۔
کازلسٹ کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بینچ 24 نومبر کو ساڑھے 11 بجے سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس حسن رضوی، جسٹس باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا، جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ شامل ہیں، جو اس معاملے پر اہم قانونی نکات کا جائزہ لیں گے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں ججز کے تبادلے کو آئینی اور درست قرار دیا تھا۔ اسی فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی، جسے اب 27 ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت منتقل کر دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت میں انٹرا کورٹ اپیل کو سپریم کورٹ اسلام آباد کورٹ کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔