ججز ٹرانسفر کیس میں بڑی پیش رفت، ہائی کورٹ ججز کا نئی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
اسلام آباد:
ججز ٹرانسفر کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق ہائی کورٹ کے ججز نے درخواست سے متعلق نیا فیصلہ کیا ہے۔
ہائی کورٹ ججز نے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل مقرر کرنے کے خلاف نئی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپیل سپریم کورٹ واپسی بھیجی جائے ۔ اس سلسلے میں ہائی کورٹ کے 5 ججز وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کریں گے ۔
کیس کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت میں دائر کرنے کے لیے متفرق درخواست تیار کرلی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ درخواست وفاقی آئینی عدالت میں ٹرانسفر نہیں ہو سکتی تھی ۔ ٹرانسفر ججز اپیل واپس سپریم کورٹ بھیجی جائے ۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی جانب سے آج درخواست دائر ہو گی۔
واضح رہے کہ ٹرانسفر ججز کیس اپیل 24 نومبر وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کے لیے مقرر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر ہائی کورٹ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز