ٹرانسپورٹرز کی جانب سے منگھو پیر ناردرن بائی پاس پر احتجاج کے معاملے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جس میں پولیس نے ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے منگھو پیر ناردرن بائی پاس پر احتجاجاً دھرنا دیا تھاجس کے باعث آنے جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی اور اڑیوں کی لمبی  قطاریں لگ گئی تھیں۔

تاہم احتجاج کے 7 گھنٹے بعد پولیس نے ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرا کر ٹریفک کی روانی بحال کرا دی۔  ٹرانسپورٹر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور ڈرائیورں نے ہفتے کی صبح 8 بجے احتجاجاً منگھو پیر کے علاقے ناردرن بائی پاس  پر دھرنا دیا۔

ٹرانسپورٹرز کے عہدیدادروں کا کہنا تھا کہ کسٹم حکام نے جمعہ اور ہفتے کی درمیان شب تقریباً دو بجے ہماری گاڑیوں پر فائرنگ اور ڈرائیوروں پر لاٹھیاں برسائیں، فائرنگ سے ایک اور تشدد سے 3 افراد زخمی ہوئے جنہیں مختلف اسپتالوں میں لے جایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کسٹم اہلکاروں نے 20 سے 25 ہیوی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ حکم ملنے پر کسٹم اہلکاروں نے گولیاں چلائیں اور لاٹھی چارج کیا، صبح آٹھ بجے سے ٹریفک بند ہے ایک گھنٹے بعد سپر ہائی وے بھی بند کریں گے۔

 ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیے بغیر احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

دوسری جانب ایس ایچ او منگھو پیر زبیر نواز نے بتایا کہ وہ اور ڈی ایس پی مظاہرین سے مزاکرات کر رہے ہیں ، مظاہرین کے جائز مطالبات مانے جائنگے اور ناجائز مطالبات کی صورت نہیں مانے جائنگے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیانی جاری مزاکرات دن سوا بارہ بجے کامیاب ہوگئے جس کے بعد ناردرن بائی پاس ٹرانسپورٹرز نے دھرنا ختم کر دیا جبکہ آنے جانے والی سڑک کو بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا جس کے بعد ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ناردرن بائی پاس منگھو پیر کے بعد

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ