data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گولارچی (نمائندہ جسارت)تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کی کال پر شہر میں 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ منایا گیا، جس سلسلے میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے گولاڑچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاج کی قیادت ایس یو پی رہنماؤں دانش نور سومرو، ابو نوحا، رحیم پنہور، ڈاکٹر اصغر شاہ، جی ڈی اے رہنما محمد حسن شاھاہد، پی ٹی آئی رہنما ملک کامران حبیب پٹھان اور دیگر نے کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملک میں نافذ کی گئی 26ویں اور 27ویں سمیت تمام متنازعہ ترامیم کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کو اس کی اصل روح اور حقیقی شکل میں بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ یہ معاملہ ریاستی نظام اور قومی مفاد سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ 27ویں ترمیم کے بعد عدالتوں کا کردار کمزور ہو گیا ہے اور پارلیمانی برتری پر بھی اثرات پڑے ہیں۔ مقررین کے مطابق سندھ حکومت دفعہ 144 کا نفاذ کرکے سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو عدلیہ کی آزادی اور جمہوری اقدار کے لیے تشویش کا باعث ہے۔احتجاجی رہنماؤں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو “سول مارشل لا” تصور کیا جاتا ہے، اور آئینِ پاکستان کے وقار اور اس کی اصل روح کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن