سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اچانک بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
کراچی:
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں 2 دن کے وقفے کے بعد قیمتوں میں آج اچانک بڑا اضافہ ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج فی اونس سونے کی قیمت میں یک دم 83ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 207 ڈالر کی سطح پر آگئی ۔
مقامی صرافہ بازاروں میں آج جمعرات کے روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 8ہزار 300روپے کے بڑے اضافے سے 4لاکھ 43ہزار 062روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 7ہزار 116 روپے بڑھ کر 3لاکھ 79ہزار 854 روپے کی سطح ہو گئی۔
مارکیٹ پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی اپنے اثاثوں کو ڈی ویلیوایشن سے محفوظ بنانے کی غرض سے خالص سونے میں انویسٹمنٹ اور برکس ممالک کی طلب بڑھنے سے عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں عارضی کمی کے بعد سونے کی قیمتوں اضافے کا رحجان دوبارہ غالب ہوگیا ہے۔
دریں اثنا ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 228روپے کے اضافے سے 5ہزار 662روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 196روپے کے اضافے سے 4ہزار 854روپے کی سطح پر آگئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سونے کی قیمت کی سطح
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔