data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
موضوع: پاکستان میں معیاری تعلیم
میں پاکستان میں تعلیم کے معیار میں بہتری کی ضرورت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ آج ہمارا تعلیمی نظام زیادہ تر رٹہ لگانے پر مبنی ہے، جس میں طلبہ کتابیں زبانی یاد کرتے ہیں مگر ان کے تصورات کو حقیقی طور پر سمجھ نہیں پاتے۔ اگر ہم ایک مضبوط اور تخلیقی قوم بنانا چاہتے ہیں تو یہ طریقہ بدلنا ضروری ہے۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ پروجیکٹرز اور بصری تدریسی طریقے اپنائیں، کیونکہ تصاویر، وڈیوز اور مختصر کلپس طلبہ کے لیے اسباق سیکھنے کو آسان بناتے ہیں۔ عملی طریقہ تدریس اور تجربات کو بھی کلاسوں میں فروغ دینا چاہیے۔ جب طلبہ خود کچھ کرتے ہیں یا اسے ہوتا دیکھتے ہیں، تو وہ اسے زندگی بھر یاد رکھتے ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نظریاتی تعلیم کے بجائے عملی تدریس پر زیادہ توجہ دیں۔ ذہنی نقشے (Mind Maps) اور مختصر، منسلک مواد بھی تعلیم کو آسان اور دلچسپ بنا سکتے ہیں۔ یہ اوزار طلبہ کو تصورات کو آپس میں جوڑنے اور علم کو تیزی سے سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایسے اقدامات کے نتیجے میں زیادہ روشن خیال، پراعتماد اور باصلاحیت طلبہ سامنے آئیں گے جو صرف امتحان پاس کرنے کے بجائے حقیقی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم روایتی تدریس سے ہٹ کر جدید تعلیم کی طرف قدم بڑھائیں، جو پاکستان کے بہتر مستقبل کی بنیاد بنے گی۔
محمد علی خان
mohammadalikps@gmail.
یو آئی ٹی یونیورسٹی کراچی، پاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :