طلبا کیلئے بڑی خوشخبری،پیف کاپارٹنراسکولز میں 2 چھٹیوں کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
لاہور (نیوزڈیسک) اسکولوں میں ہفتے کی چھٹی کے حوالے سے طلبا کے لیے بڑی خوشخبری آگئی، اب طلبہ ہفتے میں دو چھٹیوں سے مستفید ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اپنے پارٹنر اسکولوں کے اوقات کار اور ہفتہ وار تعطیل کے شیڈول میں تبدیلی کرتے ہوئے ہفتہ کی چھٹی کا اعلان کر دیا۔
اس سے قبل پیف کے اسکولوں میں صرف اتوار کی تعطیل ہوا کرتی تھی، تاہم اب طلبہ ہفتے میں دو چھٹیوں سے مستفید ہوں گے۔
پیف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کے نئے اوقات کار 8:45 صبح سے 1:30 دوپہر تک ہوں گے جبکہ جمعہ کے روز کلاسز 12:30 بجے ختم ہوں گی۔ نیا شیڈول 15 اپریل 2026 تک نافذالعمل رہے گا۔
گزشتہ ماہ پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے اوقات کار میں اسموگ کی شدت کے باعث تبدیلی کی تھی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق پیر سے جمعرات تک اسکول 8:45 صبح سے 1:30 بجے تک اور جمعہ کے روز 8:45 سے 12:30 بجے تک چلیں گے۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا تھا کہ اسموگ کی خراب صورتحال کے پیش نظر طلبہ کی صحت اور حفاظت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اسکول ٹائمنگز میں ردوبدل لازمی تھا۔
دریں اثناء سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے آنے والی ہوائیں لاہور میں آلودگی کی سطح بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسموگ میں کمی اور عوام کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات نافذ کیے ہیں۔
خیال رہے مرکزی پنجاب کے کئی اضلاع، خصوصاً لاہور میں، فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے جس سے کھلی فضا میں سانس لینا بھی مضر صحت ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔