کوئٹہ میں سیکیورٹی خدشات، نجی اسکول 16 نومبر تک بند
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں مسلسل دوسرے روز انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند رہنے کے بعد انتظامیہ نے شہر کے متعدد نجی اسکولوں کو 16 نومبر تک عارضی طور پر بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے حکام کے مطابق یہ مواصلاتی بندش انٹیلیجنس اداروں کی جانب سے ممکنہ دہشت گردی کے خدشات کی نشاندہی کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر نافذ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: تعلیم کا دامن چھوڑنے والے بچے اسکولوں کو کیسے لوٹے
حکام کا کہنا ہے کہ ان خدمات کی معطلی کا مقصد عوام کو محفوظ رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کرنا ہے۔
کوئٹہ میں سیکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے اور پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری مختلف علاقوں میں تعینات ہے۔
شہر کے اہم داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ جاری ہے جبکہ گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: کیا کوئٹہ جدید شہر بننے جارہا ہے؟
انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی مسلسل معطلی سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس سے طلبا، میڈیا کارکنان، ڈاکٹرز اور کاروباری افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ان حالات کے پیش نظر کوئٹہ کے نجی اسکولوں نے طلبا اور عملے کی حفاظت کے لیے 16 نومبر تک تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیٹ بلوچستان پولیس پیدل چیکنگ فرنٹیئر کور کوئٹہ محکمہ داخلہ موبائل موبائل سروسز نیٹ ورک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ بلوچستان پولیس پیدل چیکنگ فرنٹیئر کور کوئٹہ محکمہ داخلہ نیٹ ورک
پڑھیں:
موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
اسلام آباد: موبائل انٹرنیٹ پیکجز مہنگے ہونے سے ملک بھر کے لاکھوں موبائل صارفین کو اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ تفصیلات کے مطابق مختلف موبائل کمپنیوں کے متعدد کال، ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق مختلف موبائل آپریٹرز کے 15 مقبول ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی قیمتوں میں 33 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنا ہوگی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں 500 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 15 روزہ پیکجز اب 300 روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔
اسی طرح ہفتہ وار ہائبرڈ پیکجز کی قیمت میں 130 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تین روزہ پیکجز 21 روپے، دو روزہ پیکجز 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز 5 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کی سہولت کے لیے تمام نئی ٹیرف تفصیلات ادارے کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہیں، جہاں مختلف موبائل کمپنیوں کے کال اور انٹرنیٹ پیکجز، ان کی مدت، قیمت اور دستیاب سہولیات کا بآسانی موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد ٹیلی کام شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا اور صارفین کو مختلف موبائل کمپنیوں کے پیکجز سے متعلق درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کی قیمتوں میں اضافے سے طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور روزمرہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے ماہانہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔